آدھی دولت مونگ پھلی فروشوں کے نام | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی شمالی ریاست ہماچل پردیش کی ایک راج کماری مرتے وقت اپنی دولت کا تقریباً نصف حصہ دو مونگ پھلی فروشوں کے لیے چھوڑ گئی۔ راج راجیشوری بلاس پور کی شہزادی تھیں اور انہوں نے مرنے سے کچھ پہلے اپنی وصیت مبینہ طور پر بدل دی اور دولت کا آدھا حصہ مونگ پھلی فروشوں کے نام کر دیا۔ انہوں نے مونگ پھلی فروش باپ بیٹے کے نام ڈھائی کروڑ روپیہ کر دیا۔ یہ دونوں مونگ پھلی فروش راج کماری کے ذاتی ملازم بھی تھے۔ تاہم راج کماری کے بھائی بہت غصے میں ہیں اور کہتے ہیں کہ مونگ پھلی فروشوں نے راج کماری کو نشہ پلا کر ان سے وصیت تبدیل کرائی۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ عدالت سے رجوع کریں گے اور مونگ پھلی فروشوں کو ملنے والا حصہ واپس لیں گے۔ سباش پانڈا نے جو بلاس پور میں ضلعی میجسٹریٹ ہیں بی بی سی کو بتایا کہ راج کماری کی وصیت کے مطابق نقد روپیہ، جواہرات، زیورات، ایک گاڑی، ایرانی قالین اور کچھ نادر فن پارے مونگ پھلی فروشوں ببلو اور رام بیلاس کے نام کر دیئے گئے ہیں۔ ’راج کماری کی جائیداد کا باقی آدھا حصہ ہماچل پردیش ریاست کے ایک ٹرسٹ کے نام اس غرض سے کیا گیا ہے کہ وہ ضیعف افراد کے لیے گھر بنوائے۔‘ راج کماری نے وصیت میں یہ تبدیلی ایک میجسٹریٹ کی موجودگی میں کی اور اپنی سالگرہ کے دن اس پر دستخط کیئے۔ اسی رات یعنی نو نومبر کو راج کماری کے سینے میں درد اٹھا اور انہیں قریبی ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا جہاں وہ دو دن بعد انتقال کر گئیں۔ شہزادی کے بھائی کِرتی چند کا کہنا ہے کہ شہزادی کے ملازمین نے انہیں نشہ پلا دیا تھا تاکہ وہ اپنے اثاثے ان کے نام کردیں۔ کرتی کی بیوی کا کہنا ہے کہ دونوں مونگ پھلی فروش ملازمین پہلے بھی ’بے ایمانی‘ کا ارتکاب کر چکے ہیں۔لیکن دیگر افراد کہتے ہیں کہ ملازمین پر الزام لگایا جا رہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||