دارا سنگھ کی سزائے موت ختم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی عدالت نے ایک آسٹریلوی مبلغ اور اس کے دو کم سن بیٹوں کے قاتل کدارا سنگھ کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا ہے۔ اس واقعے میں عمر قید پانے والے دیگر بارہ افراد میں سے گیارہ کو عدالت نے بری کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔ گراہم سٹینز اور اس کے دو بیٹوں، دس سالہ فلپ اور آٹھ سالہ ٹموتھی کو انیس سو ننانوے میں مشرقی بھارت کے ایک دور افتادہ گاؤں میں زندہ جلادیا گیا تھا جس کی مزمت بھارت سمیت پوری دنیا میں کی گئی تھی۔ ایک طویل مقدمے کے بعد اس واقعے کے جرم میں تیرہ افراد کو ستمبر دو ہزار دو میں مجرم قرار دیا گیا تھا۔ ابھی تک یہ ظاہر نہیں ہوا ہے کہ اس عدالت نے دارا سنگھ کی سزائے موت میں کمی اور ایک مجرم کے علاوہ سب کو کیوں بری کردیا ہے۔ مسٹر سٹینز نے تیس سال اڑیسہ میں کوڑھ کے مریضوں کے ساتھ کام کیا تھا۔ انکی بیوہ، گلیڈیز بھارت میں جولائی دو ہزار چار تک مقیم رہیں اور پھر اس سال کے شروع میں بھارت پدما شری ایوارڈ وصول کرنے آئیں۔ یہ بھارتی قومی اعزاز
انہوں نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ انہوں نے اپنے شوہر اور بچوں کے قاتلوں کو معاف کردیا ہے۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ایک طرح سے مجھے ان پر افسوس ہوتا ہے کہ کہ انہوں نے حقیقتاً اس طرح کی حرکت کی ہے۔‘ اس حملے کے وقت ان بائیں بازوں کے ہندو انتہا پسندوں پر الزام لگایا گیا تھا جو یہ شکایت کررہے تھے کہ ہندوؤں کو زبردستی عیسائی بنایا جارہا ہے۔ تاہم اس واقعے کی سرکاری سطح پر کی جانے والی انکوائری کے نتیجے میں کہا گیا تھا کہ اس واقعے میں کسی باقاعدہ ہندو گروپ کا ہاتھ نہیں تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||