’مشرف کا دورہ نہایت اہم تھا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان نے کہا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف کا دورہ بھارت نہایت ہی اہم تھا اور اس سے دونوں ممالک کے درمیان فضا بہت بہتر ہوئی ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان جلیل عباس جیلانی نے کہا کہ آگرہ کے برعکس یہ ملاقات بالکل ہی مختلف ماحول میں ہوئی تھی۔ تاہم ترجمان نے کہا کہ لائن آف کنٹرول ایک مسئلہ ہے اور اس کو مستقل سرحد بنانا کشمیر کے مسئلے کا حل نہیں ہے اور نہ ہی پاکستان کو قابل قبول ہے۔ ترجمان سے آج کی پریس بریفنگ میں زیادہ تر سوالات صدر مشرف اور بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کے مشترکہ اعلامیے کے حوالے سے کئے گئے۔ انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ صدر مشرف کے کشمیر کے بارے میں کچھ تجاویز کے بارے میں اظہار خیال سے یہ مطلب نہیں نکالنا چاہئے کہ پاکستان نے کشمیر پر اپنے موقف میں کوئی تبدیلی کی ہے۔ ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ پاکستان کے موقف کو کشمیری رہنماؤں نے سراہا ہے۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ کشمیری رہنما سید علی شاہ گیلانی نے پاکستان پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے کشمیر کے مسئلے کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے، ترجمان نے کہا کہ سید علی گیلانی کی رائے ان کی ذاتی ہے اور کشمیری رہنماؤوں کی اکثریت نے پاکستان کے موقف کو سراہا ہے۔ ترجمان نے افغانستان میں اتحادی افواج کے سربراہ جنرل ڈیوڈ بارنو کے اس بیان کی بھی تردید کی جس میں دعوی کیا گیا تھا کہ پاکستان شمالی وزیرستان میں کوئی آپریشن کرنے کی تیاریاں کر رہا ہے۔ بگھلیار ڈیم کے مسئلے پر ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے اپنے موقف میں کوئی ردو بدل نہیں کیا ہے اور اس سلسلے میں بھارت سے مذاکرات اسی وقت شروع ہو سکتے ہیں جب بھارت اس ڈیم کی تعمیر کو روک دے۔ انھوں نے بتایا کہ بھارتی ماہرین کا ایک وفد اگلے ماہ پاکستان کا دورہ کر رہا ہے جس میں کشن گنگا ڈیم کے حوالے سے بھی پاکستان کے تحفظات پر بات ہو گی۔ ترجمان نے الزام لگایا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||