بوڈواحتجاج: ہندی فلم پر پابندی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی شمال مشرقی ریاست آسام میں حکومت نے ہندی فلم ’ٹینگو چارلی‘ کی نمائش پر پابندی عائد کردی ہے۔ ریاست کے بوڈو قبائل نے فلم کے بعض مناظر کے خلاف مظاہرہ کیا اور اس پر پابندی کا مطالبہ کیا تھا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ بوڈو برادری فلم کے ایک سین سے بہت ناراض ہیں اسی لیے اس پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ ہدایت کار منی رتنم کی فلم ’ٹینگو چارلی‘ کے ایک سین میں دکھایا گیا ہے کہ ایک بوڈو باغی تحفے میں اپنی معشوقہ کواغوا کیے گۓ شخص کا کان کاٹ کر دیتا ہے۔ ریاست کے بوڈو قبائل کو فلم کے اسی سین پر اعتراض ہے۔ آل بوڈو اسٹوڈنٹس یونین کے مشیر ربی رام نے بی بی سی کو بتایا کہ فلم کے اس منظر سے یہ تاثر ملتا ہے کہ بوڈو بڑے ظالم اور بے رحم ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فلم میں بوڈو کی عکس کشی منفی انداز میں کی گئی ہے۔ ریاستی اسمبلی کے ایک رکن ارکھاجیورا کا کہنا ہے کہ اس طرح کی فلم کسی بھی طرح قابل قبول نہیں ہے۔ ریاست میں بوڈو آبادی والے علاقوں میں فلم کے خلاف زبردست مظاہرے ہوئے ہیں اسی لیے حکومت نے اس پر پابندی عائد کردی ہے۔ لیکن بوڈو قبائل حکومت کےاس اقدام سے خوش نہیں ہیں۔ انکا مطالبہ ہے کہ بوڈو برادی کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے لیے فلم کے ہدایت کار منی رتنم کو عوام سے معافی مانگنی چاہیے۔ بوڈو اسٹوڈنٹس یونین نے سینسر بورڈ سے فلم کے متنازعہ مناظر کو نکالنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ریاست آسام میں باغی بوڈو برسوں سے ایک آزاد ریاست کے لیے لڑتے رہے ہیں۔ حکومت سے اپنے مطالبات منوانے کے لیے ماضی میں کئی بار انہوں نے ایسی دھمکیاں بھی دیں ہیں کہ اگر انکا مطالبہ پورا نہ ہوا تو وہ اغوا کیے گئے افراد کے ناک اور کان کاٹ دیں گے۔لیکن حقیقت میں ایسی دھمکیوں پر کبھی عمل نہیں ہوا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||