BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 08 April, 2005, 13:29 GMT 18:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان ہتھیاروں پر بھارتی تشویش

ایف سولہ
’ہمیں اسی مناسبت سے اعلٰی اسلحے اور جدید دفاعی سسٹم کو حاصل کرنے کی ضرورت پڑیگی‘
ہندوستان نے کہا ہے کہ پاکستان کے ذریعے اعلی تکنیک کے فوجی سازوسامان کی خرید و فروخت بھارت کےلیےگہری تشویش کا باعث ہے۔ اسکا کہنا ہے کہ اگر وہ ایسے مزید ہتھیار خریدتا ہے تو پھر ہندوستان کے پاس اسکے علاوہ کوئی چارہ نہیں کہ وہ بھی اسی مناسبت کے جدید ہتھیار حاصل کرے ۔

سری نگر اور مظفرآباد کے درمیان بس سروس کا آغاز دونوں ملکوں کے درمیان اب تک کا سب سے بڑا اعتماد کی بحالی کا قدم مانا جارہا ہے۔ لیکن اسکے چند گھنٹے بعد ہی وزیردفاع پرنب مکھرجی نے بی بی سی سے بات چیت میں کہا ہے کہ پاکستان کا جدید ہتھیاروں کا حصول ہندوستان کے لیے پریشانی کا باعث ہے۔

بی بی سی سے خصوصی بات چیت کے دوران جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ کیا موجودہ حالات میں پاکستان کے ایف سولہ جنگی طیاروں کا سودا علاقے میں کشیدگی کا سبب بن سکتے ہیں اور کیا یہ طیارے انڈیا کے لیے خطرہ ہیں ؟ تو انہوں نے کہا ’میں ڈائریکٹ تھریٹ یعنی براہ راست طور پر خطرہ کا لفظ تو استعمال نہیں کرونگا لیکن حقیقت یہ کہ اگر پاکستان مزید جدید ہتھیار خریدتا ہے تو گزشتہ ستاون برس کے جو ہمارے رشتے رہے ہیں اسکے پس منظر میں اس بات کو قطعی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ ہمیں اسی مناسبت سے اعلٰی اسلحے اور جدید دفاعی سسٹم کو حاصل کرنے کی ضرورت پڑیگی‘۔

وزیردفاع نے مزید نے کہا کہ فوج کے سبھی شعبوں میں دفاعی ساز وسامان کی جدید کاری کا عمل تیزی شروع کیا جاچکا ہے اور اس کے لیے وزیرخزانہ نے اضافی رقم بھی دی ہے۔

مسٹر مکھرجی کا کہنا تھا کہ ہندوستان نے امریکی وزیردفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ کو اپنی تشویشات سےآگاہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایف سولہ جنگی طیارے اندرونی سکیورٹی کے لیے نہیں ہوتے ہیں بلکہ انکا استعمال تو ایک مکمل جنگ میں ہوتا ہے ۔ اس موقع پر انہوں اس بات پر زور دیا کہ پاکستان نے ماضی میں ہندوستان کے ساتھ تین جنگیں لڑی ہیں۔

اس موقع پر وزیردفاع نے پڑوسی ملک بنگلہ دیش کے ساتھ رشتوں کا ذکر کرتے ہوۓ کہا کہ اب دونوں ملکوں کے درمیان پہلے جیسی بات نہیں رہی۔ انکا کہنا تھا ’بنگلہ دیش میں بنیاد پرستی میں اضافہ ہورہا ہے اور یہ بھارت کے لیے گہری تشویش کی بات ہے‘۔

چین اور ہندوستان کے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ ہندوستان کو اس بات کا احساس ہے کہ دوطرفہ مسائل ایک دو روز میں حل نہیں کیے جاسکتے۔ انکا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ ہفتے کے روز چین کے وزیراعظم جیا باؤ کے ہندوستان دورے سے دونوں ملکوں کے درمیان ایک نئے باب کا آغاز ہوگا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد