بس کے راستے میں دھماکہ، چار زخمی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمعرات کو سرینگر مظفرآباد بس سروس کے راستے سے پہلی بس کے ایک جگہ سے گزرنے کے کچھ ہی دیر بعد وہاں زور دار دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں اطلاعات کے مطابق ایک پولیس اہلکار سمیت چار افراد زخمی ہو گئے۔ یہ دھماکہ ایک بند دکان میں اس وقت ہوا جب بس کو وہاں سے گزرے صرف دس منٹ ہی ہوئے تھے۔ پریس ٹرسٹ آف انڈیا نے سرکاری ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ واقعہ سرینگر سے ستائیس کلومیٹر دور پٹن کے مرکزی بازار میں پیش آیا۔ مظفر آباد سرینگر بس سروس پر سفر کرنے والوں کو دھمکی دینے والی چار شدت پسند تنظیموں نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ پٹن میں پیش آنے والے واقعہ سے پہلے بس کے راستے پر سڑک کے کنارے کھڑے لوگ جب خوشی سے ہاتھ ہلا رہے تھے، اس وقت ایک ہوائی فائر بھی ہوا لیکن اس سے کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔ پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق خود کو شدت پسند تنظیموں کا ترجمان کہنے والے ایک شخص نے فون کے ذریعے اخباری ایجنسیوں کو مطلع کیا کہ ان تنظیموں کے ارکان نے ایک دستی بم سے حملہ کیا اور بس پر فائرنگ کی۔ ذرائع کے مطابق دھماکے کے بعد فائرنگ کی آواز سنائی دی جو ذرائع کے بقول سڑک پر موجود بس کو شدت پسندوں سے محفوظ رکھنے والے سکیورٹی اہلکاروں نے کی۔ ابتداً پولیس کا یہ کہنا تھا کہ بس کو گرنیڈ اور خودکار رائفل سے حملے کا نشانہ بنایا گیا لیکن بعد میں یہ کہا گیا کہ سڑک پر موجود ایک سکیورٹی اہلکار نے’حادثاتی‘ طور پر فائرنگ کر دی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||