’سپیڈ ڈیٹنگ‘ اب بھارت میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وقت کی کمی کا شکار ممبئی کے امراء کے لیے ساتھی چننے کا ایک نیا طریقہ پیش کیا گیا ہے اور وہ ہے ’سپیڈ ڈیٹنگ‘۔ اس طریقۂ کار میں لڑکے اور لڑکیوں کے ایک گروہ کو آپس میں ملوایا جاتا ہے اور ان کے پاس صنفِ مخالف کو متاثر کرنے کے لیے تین منٹ ہوتے ہیں۔ اگر اس عمل میں کوئی کسی کو متاثر کرنے میں کامیاب ہو جائے تو اس پروگرام کے منتظمین بات آگے بڑھاتے ہیں اور ان دونوں افراد کی ملاقاتوں کا انتظام کرتےہیں۔ بھارت میں یہ اس قسم کی پہلی کوشش ہے جبکہ یورپ میں سپیڈ ڈیٹنگ کا کاروبار زوروں پر ہے۔ اس سلسلے کا پہلا پروگرام پیر کی شام بحیرہ عرب کے ساحل پر منعقد کیا گیا۔ اس موقع پر چالیس مرد اور خواتین موجود تھے جو کہ رومانس کے لیے اپنے ساتھی یا پھر اپنے جیون ساتھی کی تلاش میں وہاں آئے تھے۔ اس پروگرام میں موجود ایک فرد کا کہنا تھا کہ اس موقع پر ہرکوئی خوش اور مطمئن نظر آ رہا تھا۔ نریجا نامی ایک خاتون کا جو اس پروگرام میں شریک تھیں کہنا تھا کہ وہ اس مقابلے میں بنا کسی توقعات کے آئیں تھیں تاہم ان کی ملاقات دو دلچسپ لڑکوں سے ہوئی ہے۔ لندن سے آئے ہوئے امیت سونی اس پروگرام میں بھارتی لڑکیوں سے ملاقات کے خیال کے تحت شریک تھے۔ ان کا کہنا تھا ’ میں نے لندن میں سپیڈ ڈیٹنگ کی ہے تاہم بھارت میں یہ میرا پہلا موقع ہے۔ لندن میں بہت کم بھارتی لڑکیاں سپیڈ ڈیٹنگ کرتی ہیں اور میں بھارتی لڑکیوں سے ہی ملنا چاہتا ہوں۔‘ اس پروگرام کے انعقاد سے یہ سوال بھی سامنے آیا ہے کہ بھارتی معاشرے میں سپیڈ ڈیٹنگ کو کس نظر سے دیکھا جائے گا۔ لندن سے تعلق رکھنے والی اس پروگرام کی خالق ماہا خان کا کہنا تھا کہ بھارتی معاشرہ سپیڈ ڈیٹنگ کے لیے تیار ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ میرا خیال ہے کہ ممبئی جیسے شہر اس قسم کے پروگراموں کے لیے بالکل تیار ہے‘۔ ماہا کے والدین کا تعلق پاکستان سے ہے اور وہ کراچی میں بھی اس قسم کا پروگرام منعقد کروانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ پروگرام کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے پروگرام کے انعقاد کے لیے بھارت میں ممبئی سے بہتر کوئی جگہ نہیں کیونکہ ممبئی بھارت کا سب سے آزاد خیال اور کثیرالقومی شہر ہے۔ پروگرام کے ایک مقامی منتظم سندیپ شیٹی کا کہنا تھا کہ ممبئی شہر میں برداشت کا مادہ بہت ہے اور یہ بہت سی چیزوں کو قبول کر لیتا ہے۔ پروگرام کے منتظمین اب سپیڈ ڈیٹنگ کے اس پروگرام کو بنگلور اور دہلی میں منعقد کروانے کا پروگرام رکھتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||