’ کاسٹنگ کاؤچ‘ پر بالی ووڈ تقسیم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شکتی کپور اور امن ورما قصوروار ہیں یا نہیں ؟ شکتی کپور یا امن ورما کو فلم انڈسٹری سے نکال دینا چاہئیے ؟ میڈیا نے جو کچھ کیا وہ کتنا صحیح کتنا غلط ہے ؟ ان سوالوں پر بالی ووڈ دو حصوں میں تقسیم ہو گيا ہے ۔ ایک طرف فلم اینڈ ٹیلی وژن پروڈیوسرز گلڈ آف انڈیا ہے تو دوسری جانب ’ سنٹا‘ یعنی سنے اینڈ ٹی وی آرٹسٹ ایسوسی ایشن ہے۔ پروڈیوسرز گلڈ آف انڈیا کے اراکین سبھاش گھئی اور یش چوپڑا نے شکتی کپور کو فلم انڈسٹری سے نکال دینے کی بات کی ہے۔ حال ہی میں ایک ٹی وی چینل نے خفیہ طریقہ سے فلمایا گیا ویڈيو ٹیپ دکھایا۔ اس ٹیپ میں بالی ووڈ کے ولن شکتی کپور کو ایک ہوٹل کےکمرے میں نشے میں دھت دکھایا گیا ہے۔اس کمرے میں ایک لڑکی بھی موجود ہے جو بظاہر فلموں میں ہیروئن بننے کی خواہش مند ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ شکتی کپور اس سلسلے میں اس کی مدد کریں۔ ٹیپ میں دکھایا گیا ہے کہ اس کے لیے شکتی کپور اس لڑکی سے سیکس کے لیے کہتے ہيں۔ شکتی کپور نے کئی بڑی ہیروئنوں کے نام لیے ہیں اور کہا ہے کہ یہ ہیروئنیں پروڈیوسروں کے بستر سے گزرتی ہوئی اس مقام تک پہنچی ہیں۔ اس ٹیپ کو دکھائے جانے کے بعد پروڈیوسرز گلڈ آف انڈیا اور بالی ووڈ کے کئی ستاروں نے شکتی کپور کی مذمت کی اور گلڈ نے شکتی کپور پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ منظور کر لیا تھا ۔ اس کے بعد ٹی وی اسٹار امن ورما کی بھی اسی طرح خفیہ کیمرے کے ذریعہ کیسٹ بنائی گئی تو پورے بالی ووڈ میں ہنگامہ ہوگیا ۔ ٹی وی چینل نے دعوٰی کیا ہے کہ ان کے پاس پہلاج نہلانی اور مادھوری ڈکشٹ کے سیکریٹری رکّو کے بھی اس قسم کے کیسٹ موجود ہیں۔ اس تنازعہ کو ختم کرنے کے لیے ’ سنٹا‘ نے محبوب اسٹوڈیو میں ایک پریس کانفرنس کی جس میں پارلیمنٹ کے ممبر اور فلم اداکار گوندا ، سلمان خان ، ارباز خان، روی چوپڑہ ، راج کمل ، پہلاج نہلانی کے علاوہ امن ورما اپنے وکیل کے ساتھ شریک ہوئے لیکن گلڈ کا کوئی ممبر اور شکتی کپور وہاں موجود نہیں تھے۔ پہلاج نہلانی نے کہا کہ گلڈ نے جوش میں شکتی کپور کو فلم انڈسٹری سے نکال دینے کا فیصلہ کیا ہے جس کی ہم سب مخالفت کرتے ہیں۔ سلمان خان کا کہنا تھا کہ میڈیا کو یا کسی اور کو کوئی حق نہیں ہے کہ وہ کسی کی ذاتی زندگی میں دخل دے۔ انہوں نے بالی ووڈ میں کاسٹنگ کاؤچ کے خیال کوغلط قرار دیا۔ گووندا نے اس پورے واقعہ کو فلم انڈسٹری کو بدنام کرنے کی سازش قرار دیا اور اپیل کی کہ اس موقع پر فلم انڈسٹری بکھرنے کے بجائے متحد ہو جائے اور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سب باتوں کو درگزر کردیں۔ ارباز خان نے کہا کہ زندگی کے ہر شعبہ میں ایسا ہوتا ہے اور یہ کڑوا سچ ہےلیکن فلم انڈسٹری کو ہی کیوں نشانہ بنايا گیا۔ پریس کانفرنس کے دروان بالی ووڈ اسٹار اور صحافیوں کے درمیان زبردست ٹکراؤ ہوا اور تمام فلمی ستارے پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے۔ امن ورما کے وکیل دیپیش مہتا نے بی بی سی کو بتایا کہ دو روز قبل وہ پولیس کمشنر اے این رائے سے ملے تھے اور ان سے شکایت بھی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بعد میں تحریری شکایت کی جائےگی کہ غلط کام کرنے پر اکسانے ، سازش رچانے ، گھر میں زبردستی گھس آنے ، اور چوری چھپے فلم بنانے جیسے الزمات کے تحت ٹی وی چینل کے خلاف کارروائی کی جائے۔ وہ ابھی کچھ روز پولیس کارروائی کا انتظار کریں گے اور انہیں پولیس پر بھروسہ ہے ۔ اگر کارروائی نہیں ہوئی تو عدالت کا دروازہ کھٹکھٹايا جائے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||