| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ممبئی فلمی دنیا اور انڈرورلڈ
بھرت شاہ کو سزا سنائے جانے کے عدالتی فیصلے سے یہ بات منظرِ عام پر آگئی ہے کہ ممبئی کی فلمی دنیا اور جرائم پیشہ انڈرورلڈ میں روابط موجود ہیں۔ ہندوستان کی ایک عدالت نے فلم ساز بھرت شاہ کو بالی وڈ کےانڈرورلڈ سے رابطے سے متعلق معلومات چھپانے کے الزام میں ایک سال قید کی سزا سنائی ہے۔ بھرت شاہ اور فلم پروڈیوسر نسیم رضوی پر الزام ہے کہ انہوں نے بھارتی فلمی صنعت اور مافیہ کے درمیان تعلقات کے بارے میں معلومات پولیس سے خفیہ رکھیں۔ تاہم شاہ پر عائد زیادہ سنگین الزامات واپس لے لئے گئے تھے۔ بھرت شاہ اس بارے میں کہتے ہیں کہ ان کے خیال میں یہ ایک سیاسی چال تھی۔ پولیس سے معلومات پوشیدہ رکھنے کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ اگر ان پر یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے تو پھر تمام فلمی صنعت ہی کو اس کی زد میں آنا چاہئے۔ ’فلمی صنعت میں شاید ہی کوئی ایسا ہو جس سے کسی نہ کسی موقع پر انڈر ورلڈ نے فون پر یا کسی کے ذریعے رابطہ نہ کیا ہو۔ پھر پولیس کو مطلع کرکے کون اپنے سر مصیبت لے گا‘۔ بالی ووڈ کے کئی فنکاروں پر الزام ہے کہ جرائم پیشہ دنیا سے ان کے روابط ہیں۔ اسی طرح کا ایک معاملہ جس میں بالی ووڈ کے ایک نہایت معروف سٹار ملوث ہیں، گزشتہ دس برس سے چل رہا ہے۔ بھرت شاہ ہندوستانی فلمی صنعت کے سب سے بڑے سرمایہ کار سمجھے جاتے ہیں اور انہوں نے بڑے بجٹ سے تیار ہونے والی کئی فلموں میں سرمایہ کاری کی ہے۔ ان کی گرفتاری مشہور فلم چوری چوری چپکے چپکے سے متعلق ہونے والی تحقیقات کے بعد عمل میں لائی گئی تھی۔ ان تحقیقات میں اس بات کو جانچنے کی کوشش کی گئی تھی کہ فلم کے لئے سرمایہ کا ذریعہ مافیہ گروہ تو نہیں تھے۔ بھرت شاہ نے ان الزامات کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ انہوں نے فلم کے لئے خود اپنے سرمائے سے رقم فراہم کی ہے۔ پولیس نے تحقیقات کے دوران بھرت شاہ اور ممبئی کے معروف بدمعاش چھوٹا شکیل کے مابین ہونے والی ٹیپ شدہ گفتگو کو شہادت کے طور پر استعمال کیا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||