کمیلا اور چارلس کیلیے ٹفن تحفہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی شہزادہ چارلس اور ان کی منگیتر کمیلا پارکر بولز کو آٹھ اپریل کو ہونے والی ان کی شادی پر جہاں اور بہت سے تحفے ملیں گے وہاں ایک تحفہ ایسا بھی ہو گا جو انہیں ممبئی کے ان مزدوروں کی جانب سے بھیجا جانے والے ہے۔ ان مزدوروں کو مقامی اصطلاح میں ڈبے والے کہا جاتا ہے اور ان کا کام لوگوں کو ان کے گھروں کا پکا ہوا کھانا پہنچانا ہوتا ہے۔ ممبئی کے ڈبے والے شہزادہ چارلس کے لیے ایک روایتی صافہ اور کمیلا کے لیے زری کی ساڑی اور ہری چوڑیاں خریدنے کے لیے پیسے جمع کر رہے ہیں۔ دو ہزار تین میں جب شہزادہ چارلس بھارت کے دورے پر گئے تھے تو وہ خاص طور پر ممبئی کے ڈبے والوں سے ملے تھے۔ ڈبے والوں کا کہنا ہے کہ وہ شہزادہ چارلس سے ہونے والی اس ملاقات کو کبھی نہیں بھولیں گے۔ ان کی ایسوسی ایشن کے سربراہ رگھوناتھ میج نے بتایا کہ اسی ملاقات کی وجہ سے ممبئی کے ڈبے والے دنیا بھر میں مشہور ہو گئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کمیلا کو شاید روایتی نو میٹر لمبی ساڑی پہننے میں دقت ہو اس لیے وہ ان کے لیے صرف چھ میٹر لمبی ساڑی بھیجیں گے۔ ممبئی میں تقریباً پانچ ہزار ڈبے والے ہیں جو روزانہ لگ بھگ ایک لاکھ پچہتر لوگوں تک ان کے ڈبے کھانے کے وقت دفتروں اور فیکٹریوں تک پہنچاتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||