آندھرا میں حالات کشیدہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آندھرا پردیش میں حزبِ اختلاف کی تیلگو دیسم پارٹی کے ایک رہنما کے قتل کے بعد ریاست میں خاصی کشیدگی ہے ۔ تیلگو دیسم نے ریاست میں کانگریس حکومت کو برخاست کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس قتل کے خلاف پارٹی نے ریاست میں ہڑتال کا اعلان کیا تھا جس سے ریاست میں عام زندگی متاثر ہو کر رہ گئی تھی۔ ریاستی دارالحکومت حیدر آباد اور دیگر اہم شہروں میں تعلیمی اور تجارتی ادارے بند رہے۔تیلگو دیسم کے صدر این چندرا بابو نائیڈو نے گورنر سے ملاقات کرکے پریتلا روی کے قتل کی تحقیقات سی بی آئی سے کرانے اور ریاستی حکومت کو برخاست کرنے کا مطالبہ کیا۔ چندرا بابو نائیڈو نے گورنر کو لکھے اپنے خط میں ریاست کے وزیر اعلی راج شیکھر ریڈی ، ان کے بیٹے اور ایک سینئیر پولیس افسر پر اس قتل میں ملوث ہونے کا الزام لگایا ہے ۔ اس قتل کے بعد تیلگو دیسم پارٹی کے کارکن سڑکوں پر نکل آئے اور بڑے پیمانے پر سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا جس کے بعد علاقے میں کرفیو لگا دیا گیا۔ ریاستی پولیس کا کہنا ہے کہ مسٹر روی کے قاتلوں کا پتہ لگانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ آندھرا پولیس نے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ مسٹر روی کے حفاظتی انتظامات میں کسی طرح کی لاپرواہی برتی گئی پولیس کے مطابق تمام ضروری انتظامات کئے گئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||