نٹورکی سیول سے واپسی پر خاموشی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی وزیرِ خارجہ نٹور سنگھ نے اپنے تین روزہ دورہ جنوبی کوریا سے واپسی پر بھارتی وزیرِاعظم منموہن سنگھ سے ملاقات کی ہے۔ اس دورے میں 1998 میں بھارت کےایٹمی تجربوں پر نٹور سنگھ کے بیان سے تنازعہ پیدا ہو گیا تھا۔ نٹور سنگھ نے ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات نہیں کی اور نہ ہی حکام نے اس ملاقات کی تفصیل فراہم کی ہے۔البتہ حکام کا کہنا ہے کہ ملاقات میں بھارتی وزیرِ خارجہ کا بیان زیرِ بحث آیا۔ بھارتی حزبِ اختلاف کے نیشنل ڈیموکریٹک الائنس نے وزیرِاعظم منموہن سنگھ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پارلیمان میں نٹور سنگھ کی جانب سے سیول کے ایک اخبار کو دیے گئے انٹرویو پر بات کریں۔ بھارتی وزیرِخارجہ نے اپنے انٹرویو میں کہا تھا کہ پاکستان کے ساتھ جوہری کشمکش کی ذمہ دار سابق حکومت تھی۔ منموہن سنگھ نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ بھارت ایک ذمہ دار ملک ہے اور اس کی جوہری پالیسی میں کوئی ابہام نہیں ہے۔ بھارت کی وزارتِ خارجہ اور خود نٹور سنگھ نے کہا ہے کہ اخبار نے ان کے بیان کو مطلب کے منفی انداز میں پیش کیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||