BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 03 December, 2004, 11:55 GMT 16:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ آئیں ہم سے خریدیں‘
News image
متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی شروع ہو گئی ہے
سانحۂ بھوپال کے متاثرین وہ شخصیات ہیں، جنہیں آجکل سب سے زیادہ تلاش کیا جا رہا ہے۔

اگرچہ اس حادثہ کو کوئی بھی نہیں بھلا پایا ہے لیکن اب اس معاملے نے ایک نئی راہ اختیار کر لی ہے۔

اس سانحہ کے بہت سے متاثرین کو ہرجانے کی رقم مل گئی ہے اور وہ اسے بے دریغ خرچ کر رہے ہیں۔ علاقے کے بینک اور فنانس کمپنیاں ان متاثرین کو مختلف اقسام کی پیشکشیں کر رہی ہیں۔

یہ پیشکشیں اس تین سو اڑتالیس ملین ڈالر کی رقم کی وجہ سے ہیں جس میں سے ان متاثرین کو ہرجانے کی ادائیگی شروع کر دی گئی ہے جن کے کلیم منظور ہو گئے ہیں۔

اس حادثہ کے پانچ لاکھ ستر ہزار متاثرین ہرجانے کی دوسری قسط کی انتظار میں ہیں۔ ہر جانے کی رقم انیس سو نواسی میں یونین کاربائیڈ کمپنی نے ایک معاہدے کے بعد فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

ایک اندازے کے مطابق اس حادثے کے متاثرین کو فی کس 2200 سے 6600 امریکی ڈالر ملنے کی امید ہے۔

بھوپال کے لوگ معاوضے کی رقم سے اپنی ضروریاتِ زندگی خریدنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

زیادہ تر لوگ حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے ’ کمپنسیشن کارڈ‘ کو قرضوں کے حصول کے لیے ضمانت کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

بابولال نامی ایک مزدور نے اس کارڈ کو بطور ضمانت استعمال کرتے ہوئے موٹر سائیکل خریدنے کے لیے قرضہ لیا ہے۔

علاقے کے ایک موٹر سائیکل ڈیلر ایم میتھیو نے کہا کہ ’ ہمیں امید ہے کہ زرِ تلافی کا قریباً تیس فیصد موٹر سائیکلوں اور کاروں کی خریداری پر خرچ ہو گا‘۔

ایک مقامی فنانس کمپنی نے علاقے کے لوگوں کے لیے قرضوں پر سود کی شرح میں کمی کا اعلان کیا ہے۔

بھارتی بنک بھی زرِ تلافی حاصل کرنے والے متاثرین میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ایک حکومتی بنک نےعلاقے میں اکاؤنٹ کھولنے کی شرائط میں نرمی کر دی ہے۔

بہت سے متاثرین کو جو کہ بنک اکاؤنٹ نہیں رکھتے، اب اکاؤنٹ کھولنے کی ضرورت ہوگی کیونکہ زرِ تلافی بذریعۂ چیک ادا کیا جائے گا۔

علاقے کے اسٹیٹ ایجنٹ بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ایک نجی ایجنٹ صحارا ہاؤسنگ متاثرین کے لیے دس ایکڑ پر مشتمل رہائشی سکیم بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

علاقے میں گھروں کی خریداری کے بڑھتے ہوئے رجحان کو دیکھتے ہوئے ایک حکومتی ہاؤسنگ کمپنی نے پینتیس ایکڑ زمین خریدی ہے جہاں پر ایک ہزار نئے اپارٹمنٹ بنائے جائیں گے۔

ایک سینئیر حکومتی اہلکار ستیہ پرکاش نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ لوگ فضول خرچی کے بجائے اپنی رقم سرمایہ کاری میں استعمال کریں‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد