پارلیمان کا سرمائی اجلاس شروع | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں ہنگامہ آرائی کے ساتھ پارلیمنٹ کے سرمائي اجلاس کی شروعات ہوگئی ہے۔ یہ اجلاس آئندہ دسمبر کی 23 تاریخ تک جاری رہے گا۔ اجلاس کی ابتدا میں زیادہ تر ارکان نے مہنگائی اور افراط زر میں زبردست اضافے کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ کوشش یہ ہے کہ پارلیمان کا سرمائی اجلاس خوش اسلوبی سے چلے تاہم اس کے ہنگامہ خیز ہونے کی توقع ہے۔ حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے سرمائی اجلاس کے پہلے ہی دن مہنگائی کے خلاف ایک زبردست ریلی کی ہے اور حکومت کی حلیف بائیں بازو کی جماعتیں بھی پیٹرول، ڈیزل اور رسوئی گیس کی قیمتوں میں اضافے کے لیے سرکار پر نکتہ چینی کرتی رہی ہے۔ یہ معاملہ پارلیمنٹ کے اندر بھی بہت زور شور سے گونجےگا۔ سرمائی اجلاس میں بحث کے لیے جہاں حکومت تقریبا پینتالیس بل پیش کرےگی وہیں مختلف سیاسی جماعتوں نےکئی امور پر بحث کے لیے تقریبا پینسٹھ نوٹس دیئے ہیں۔ مہنگائی کے علاوہ بدعنوانی اور مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے وزراء کا معاملہ بھی اہم بحث کا موضوع ہیں۔اپوزیشن اس معاملے پر پہلے ہی سے ٹکراؤ کی پالیسی پر آمادہ تھی۔ حال ہی میں جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے سربراہ شیبو سورین کودوبارہ کابینہ میں شامل کیا گیا ہے جس سے اس کے تیور مزید تیز ہوگۓ ہیں۔ سورین کو کئی برس قبل قتل عام کے ایک معاملے میں قانونی کارروائیوں کا سامنا ہے۔ ادھر ریاست بہار میں اسمبلی انتخابات کی وجہ سے ریلوے کے مرکزی وزیر لالو پرساد یادواور کیمکل و فرٹالائیزر کے وزیر رام ولاس پاسوان میں اختلافات ابھر کر سامنے آگۓ ہیں۔ دونوں وزیر ایک دوسرے پر بدعنونانی کا الزام عائد کرہے ہیں۔ ان دونوں وزراء نے ایک دوسرے پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے ہیں۔ ان کا تصادم منموہن سنگھ کے لیے سبکی کا سبب ہوگیا ہے۔ اپوزیشن وزیراعظم سے دونوں وزراء کے ٹکراؤ اور الزامات کے بارے میں وضاحت طلب کرےگی۔ امکان ہے کہ اپوزیشن اس پر تحریک التویٰ بھی پیش کرے۔ بی جے پی مذہبی رہنما شنکراچاریہ جینندر سرسوتی کی گرفتاری کا معاملہ بھی ایوان میں اٹھائے گی۔ لیکن اس معاملے میں اس کا لب و لہجہ اب اتنا سخت نہیں رہ گیا ہے جتنا کہ ابتداء میں تھا جب اس نے احتجاج شروع کیا تھا۔ این ڈی اے یعنی قومی جمہوری محاذ منموہن سنگھ حکومت پر یہ الزام عائد کرتا رہا ہے کہ حکومت ملک کی سلامتی کے تئیں سنجیدہ نہیں ہے۔ حزب اختلاف کی کوشش ہوگی کہ وہ شورش زدہ شمال مشرقی ریاست منی پور اور جموں کشیر کے حوالے سے اس موضوع پر بھی بحث کا مطالبہ کرے۔ اس ضمن میں پاکستان کے ساتھ امن مذاکرات اور کشمیر کے متعلق پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف کی حالیہ تجویز پر بھی بحث ہوسکتی ہے۔ اس بار کا سرمائی اجلاس سترہ دن تک جاری رہےگا۔ لیکن مسائل بہت سے ہیں۔ لوک سبھا اسپیکر سومناتھ چٹرجی نے اجلاس کو خوش اسلوبی سے چلانے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں سے صلاح و مشو کیا تھا اور سبھی جماعتوں نے اس میں تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ گزشتہ بار اجلاس کا زیادہ تر وقت شور شرابے کی نذر ہو گیا تھا۔ لیکن شاید اس بار تمام مسائل پر مفصل بحث ہوسکے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||