BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 14 August, 2004, 07:53 GMT 12:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لوک سبھا اجلاس کا بجٹ اجلاس

پارلیمان: ایک بلین عوام کی نمائندگی
پارلیمان: ایک بلین عوام کی نمائندگی
ہندوستان میں پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کا دوسرا حصہ آئندہ سولہ اگست سے شروع ہورہا ہے۔ گزشتہ اجلا‎س کا زیادہ تر وقت اپوزیشن کے ہنگامے کی نظر ہوگیا تھا لیکن اس بار حکمراں اتحاد اور حزب اختلا‌ف کے درمیان لوک سبھا کی کاروائی خوش اسلوبی سے چلنے پر مفاہمت ہوگئی ہے۔

تاہم حزب اختلاف کی جماعتوں نے حکومت پر دباؤ بنانے کے لئے ابھی سے حکمت عملی تیار کرنی شروع کر دی ہے۔

نئی د ہلی میں بی جی پی کے ترجمان ارون جیٹلی نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یو پی اے یعنی متحدہ ترقی پسند محاذ حکومت کی اقتصادی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کی ہے۔ جیٹلی کا کہنا تھا کہ عام اشیاء کی قیمتوں کی شرح میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے اور حکومت ہے کہ وہ اپنے اس دعوے پر بضد ہے کہ اس کی پالیسیاں عوام دوست ہیں۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ قیمتوں میں اضافے کا سبب عالمی بازار میں تیل کی بڑھتی قیمتیں بھی ہیں لیکن اس کی اصل وجوہات عام بجٹ میں نۓ ٹیکسوں کا نفاذ اور حکومت کی عوام مخالف پالیسیاں ہیں۔

پارٹی کا کہنا ہے کہ ملک کے کئی حصوں میں جہاں سیلاب کی صورت حال ہے وہیں کئی علاقے خشک سالی سے متاثر ہیں لیکن حکومت نے اس سے نمٹنے کے لۓ کوئی خاص کوشش نہیں کی ہے۔

بی جے پی نے حکومت پر دہشت گردی کے تئیں سنجیدہ نہ ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ یو پی اے حکومت انسداد دہشت گردی قانون یعنی پوٹا کو ختم کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ جیٹلی کا کہنا تھامجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے وزراء کا معاملہ ابھی بھی ختم نہیں ہوا ہے اور یہی وہ تمام مسائل ہیں جنہیں پارلیمان کے آئندہ اجلاس میں زور شور سے اٹھایا جائےگا ۔

دوسری طرف حکمراں جماعت کانگریس کا کہنا ہے کہ حکومت نے سیلاب اور خشک سالی جیسے سبھی مسائل پر خصوصی توجہ دی ہے اور جہاں تک قیمتوں میں اضافے کا سوال ہے تو اس کی کئی وجوہات ہیں لیکن حکومت نے اس پر قابو پانے کے لۓ کئی اقدامات اٹھائے ہیں اور خود وزیر خزانہ پی چدمبرم ذاتی طور پر اس پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

کانگریس کے ترجمان آنند شرما کا کہنا تھا کہ حکومت نے آئندہ پارلیمانی اجلاس کے متعلق پوری حکمت عملی طے کرلی ہے اور امکان ہے کہ اس بار ہر چیز خوش اسلوبی سے انجام پائےگی۔ تاہم حزب اختلاف کے سخت رویے سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ گرچہ لوک سبھا اجلاس پہلے کی طرح شور شرابے کی نظر نہ ہو لیکن ہنگامہ خیز ضرور ہو گا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد