کشمیر میں دس ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں پولیس کا کہنا ہے کہ ایک گاؤں میں رات بھر جاری رہنے والی جھڑپ کے دوران مشتبہ اسلامی شدت پسندوں نے کم از کم دس افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔ جموں کے شمال میں دو سو دس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع سورانکوٹ نامی علاقے میں ہونے والی اس جھڑپ میں پندرہ افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں سے بیشتر کا تعلق مقامی سکیورٹی فورس سے ہے۔ تاہم ابھی تک کسی نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ بھارت اور پاکستان کے وزرا خارجہ اتوار کو دہلی میں ملاقات کر رہے ہیں جس میں وہ شورش زدہ علاقے کی صورت حال پر غور کریں گے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے جلد حل کے بارے میں صورت حال زیادہ پرامید نہیں ہے کیونکہ کوئی بھی فریق بڑے پیمانے پر سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہے۔ اتوار کے روز دہلی میں ہونے والے مذاکرات دو روز تک جاری رہیں گے جن کے دوران دونوں ملکوں کی سکیورٹی کے امور پر بھی غور کیا جائے گا۔ پاکستان اور ہندوستان گزشتہ ایک برس کے دوران باہمی اعتماد کے فروغ کے سلسلے میں ریل، فضائی اور بس کے راستے بحال کر چکے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||