مقدس ترین بدھ مندر پر حملہ کس نے کیا؟

- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
بھارت کی ریاست بہار میں اتوار کی صبح بدھ مذہب کے مقدس ترین مندروں میں شدت پسندوں نے کم از کم آٹھ بم دھماکے کیے ہیں۔
دھماکے شدید نوعیت کے نہیں تھے اور جس وقت یہ دھماکے ہوئے اس وقت مندروں میں زیادہ عقیدت مند موجود نہیں تھے۔
بہار کے شہر گیا میں واقع بین الاقوامی اہمیت کے حامل اس مندر میں یہ بم بظاہر سنیچر کی رات کسی نصب کیے گئے۔
دھماکوں سے مندر کو کوئی خاص نقصان نہیں پہنچا۔ ایک بم مندر کے اس پیپل کے درخت کے نزدیک نصب کیا گیا تھا جس کے بارے میں یہ روایت ہے کہ بدھ مذہب کے بانی گوتم بدھ نے تقریباً ڈھائی ہزار برس پہلے اس کے نیچے بیٹھ کر عبادت کی تھی اور انہیں روحانیت کا نزول ہوا تھا۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ بہار کی پولیس کو مرکزی انٹیلی جنس بیورو نے اس مندر پر کسی ممکنہ حملے کے خدشے سے آگاہ کیا تھا۔
مندر کا احاطہ بہت بڑا ہے اور بم الگ الگ جگہوں پر نصب کیے گئے تھے۔ ہو سکتا ہے کہ اس کام میں متعدد افراد ملوث ہوں۔
مندر کے احاطے میں جگہ جگہ کمیرے لگے ہوئے ہیں اگر وہ دھماکے سے پہلے کام کر رہے ہوں گے تو ملزمان بہت آسانی سے گرفت میں آ جائیں گے۔
دھماکے کی تفتیش قومی تفتیشی ایجنسی این آئی اے کرے گی جس کے اہلکار دھماکے کے آٹھ گھنٹے گزرنے کے بعد جائے واردات پر پہنچنے والے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ابھی تک کسی تنظیم یا گروپ نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے اور نہ ہی تفتیشی اداروں نے کسی طرف اشارہ کیا ہے۔
لیکن حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اور بھارتی میڈیا نے اس واقع میں مسلم شدت پسندوں کے ملوث ہونے کے بارے میں کہنا شروع کر دیا ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کے ترجمان جے شنکر پرساد نے کسی کے حوالے سے کہا کہ ایک مسلم شدت پسند تنظیم نے دھماکے کے لیے اس مندر کا جائزہ لیا تھا۔
وہیں کانگریس کے سینیئر رہنما دگوجے سنگھ نے بی جے پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہاکہ وہ آئندہ انتخابات سے قبل مذہبی منافرت کو ہوا دے رہی ہے۔
انہوں نے متنبہ کرتے ہوئے کہا’ان تمام ریاستوں کو جہاں بی جے پی اقتدار میں نہیں، الرٹ کرنا چاہتا ہوں کہ وہ اس طرح کے ممکنہ بم دھماکوں اور حملوں سے ہوشیار رہیں‘۔
مہابدھ مندر بدھ مذہب کا سب سے مقدس مقام ہے۔ بدھ مذہب کے ماننے والوں کے لیے اس مندر کا وہی مقام ہے جو مسلمانوں کے لیے کعبہ کا ہے۔دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اس<link type="page"><caption> مندر کی انتظامیہ پر 1949 کے ایک قانون کے تحت ہندوؤں کا غلبہ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/india/story/2007/06/070628_budha_temple_sq.shtml" platform="highweb"/></link> ہے۔مندر کی انتظامیہ میں چار بدھ مت اور چار ہندو شامل ہوتے ہیں۔
انتظامیہ کا چیئرمین گیا کے ضلع کے ہندو مجسٹریٹ ہوتے ہیں۔ اگر مجسٹریٹ ہندو نہیں ہے تو ریاستی حکومت کسی ہندو کو چیئرمین کے طور پر نامزد کرے گی۔ بدھ مت ایک عرصے سے مندر کا انتظام بدھ مت کے ہاتھ میں دینے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔
لیکن اس کی مزاحمت کی جاتی رہی ہے۔ بدھ راہبوں نے اس کے خلاف دھرنا بھی دیا تھا اور وہ سپریم کورٹ بھی جا چکے ہیں لیکن انہیں کامیابی نہ ملی۔
لیکن گزشتہ ماہ بہار کی حکومت نے اس قانون میں ترمیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومت نے قومی اقلیتی کمیشن کو آگاہ کیا ہے کہ بہار کی ریاست ایک سیکیولر ریاست ہے اور وہ مہابدھ مندر کی انتظامیہ کے قانون میں ترمیم کے لیے تیار ہے۔کیونکہ یہ قانون سیکیولر اصولوں کے خلاف ہے۔







