بھارت: بہارمیں مندروں کے باہردھماکے، دو زخمی

بھارت کی مشرقی ریاست بہار میں بدھ مت کے پیروکاروں کی تاریخی عبادت گاہوں کے باہر یکے بعد دیگرے آٹھ دھماکے ہوئے ہیں۔ ان دھماکوں میں دو افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ دھماکے ہلکی نوعیت کے تھے اس لیے زیادہ نقصان نہیں ہوا ہے۔
ریاست بہار کے علاقے گایا میں بدھ مت کی تاریخی عبادت گاہ مہا بدھی ہے جہاں ایک احاطے میں مندروں کے علاوہ مذہبی مقامات بھی ہیں۔
دھماکے کے بعد مقامی پولیس نے تمام مندروں کو خالی کروالیا۔
پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لینے کے بعد ابتدائی تحقیقات کے لیے شواہد اکٹھا کرنا شروع کر دیے ہیں۔
مہا بدھی مندروں کی کمیٹی کے ایک عہدایدار نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ دھماکوں کی شدت کم تھی اور اس سے مندروں کی عمارتوں کو نقصان نہیں پہنچا ہے لیکن دھماکوں کے بعد دھواں پھیل گیا تھا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق زخمی ہونے والے ایک شخص کا تعلق برما سے بتایا گیا ہے۔ زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے لیے ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے۔
پولیس کے سنیئیر اہلکارنے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ دھماکے مندروں کے دروازے پر ہوئے اور دھماکے کے وقت مندروں میں عبادت کرنے والوں کی تعداد بہت کم تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ اس علاقے میں ممکنہ دھماکوں کی اطلاعات پہلے سے تھیں۔ تاہم انھوں نے تفصیل بتانے سے گریز کیا۔
انھوں نے بتایا کہ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بم دھماکوں کا مقصد زائرین میں خوف وہراس پھیلانا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق دھماکے اُس جگہ ہوئے جہاں بدھ مت کے ماننے والوں کی عبادت گاہیں تھیں۔ پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ تواتر کے ساتھ کئی دھماکے ہوئے لیکن اُن کی شدت کم تھی۔
بھارت ریاست بہار کے دارالحکومت پٹنا سے ایک سو تیس کلو میٹر کے فاصلے پر واقع اس علاقے میں بدھ مت کی تاریخی اہمیت کی حامل عبادت گاہیں موجود ہیں۔ جاپان، تھائی لینڈ اور میانمر سے ہزاروں زائرین اس تاریخی عبادت گاہوں میں آتے ہیں۔







