بنگلور میں دھماکا، 8 اہلکاروں سمیت 16 زخمی

پولیس کا کہنا ہے کہ جنوبی بھارت کی ریاست کرناٹک کے شہر بنگلور میں بدھ کی صبح ایک سیاسی پارٹی کے دفتر کے قریب ہونے والے بم دھماکے میں آٹھ پولیس اہلکار سمیت کم از کم 16 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
پولیس کو شک ہے کہ دھماکا خیز مواد موٹر سائیکل پر رکھا گیا تھا۔ زخمیوں کو ایک قریبی ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے جہاں دو کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔
خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق بنگلور کے پولیس کمشنر راگھویندر اورادكر نے بتایا کہ دھماکا صبح تقریبا ساڑھے دس بجے ملّیشورم علاقے میں ہوا۔ انہوں نے کہا: ’ابھی میں اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ یہ دھماکا تھا۔ آغاز میں سمجھا جا رہا تھا کہ دھماکا سلنڈر کی وجہ سے ہوا لیکن اب ہمارا خیال ہے کہ یہ موٹر سائیکل دھماکا تھا۔‘
واضح رہے کہ یہ دھماکا اس وقت ہوا ہے جب آئندہ چند ہفتوں میں ریاست کرناٹک میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ’دھماکا خاصا بڑا تھا جس سے آس پڑوس کے مکانات ہل گئے۔‘
یہ دھماکا ریاست میں برسراقتدار سخت گیر ہندو جماعت بی جے پی کے دفتر کے پاس ہوا۔ بی جے پی کے ایک ترجمان نے بتایا کہ جب وہ اپنی پارٹی کے دفتر میں کام میں مشغول تھے تو انہوں نے ’زبردست دھماکے‘ کی آواز سنی۔
قومی سراغ رساں ایجنسی (این آئی اے) کی ٹیم جائے وقوع پر پہنچ چکی ہے اور وہاں سے ثبوت اکٹھے کر رہی ہے۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکے کی وجہ سے ارد گرد کی کئی گاڑیاں تباہ ہو گئیں اور آس پاس کی کئی عمارتوں کے شیشے چٹخ گئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کرناٹک میں پانچ مئی کو اسمبلی انتخابات ہونے ہیں اور بدھ کو کاغذات نامزدگی داخل کرنے کا آخری دن تھا۔ یہی وجہ تھی کہ بی جے پی کے دفتر میں خاصی بھیڑ تھی۔
اس دوران مرکزی وزیرِداخلہ آر پی این سنگھ نے کہا ہے کہ ابھی کچھ کہنا جلد بازی ہو گی کہ یہ دھماکا کس طرح ہوا۔ انہوں نے لوگوں سے پر امن رہنے اور افواہوں پر توجہ نہ دینے کی اپیل کی ہے۔
اس سے قبل فروری میں بھارت کے جنوبی شہر حیدرآباد میں ایک بم دھماکے میں 17 افراد ہلاک اور ایک سو سے زیادہ زخمی ہو گئے تھے۔







