کرکٹ شاید مزید ذلت سے بچ جائے!

- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
بالآحر بھارت کے کرکٹ بورڈ کے صدر کا غرور ٹوٹ رہا ہے۔گزشتہ مہینے سپاٹ فکسنگ میں ٹیسٹ کھلاڑی شری سنت اور دو دیگرکھلاڑیوں کی گرفتاری تک تو کسی نے منھ ہی نہیں کھولا تھا۔ جب سٹے بازی میں خود بورڈ کے صدر کے داماد گروناتھ میپّن گرفتار ہوئے تو پھر کسی کولب کھولنے کی ضرورت ہی نہیں رہی۔
کرکٹ بورڈ کے صدر این سری نواسن نے پہلے تو یہ اعلان کیا کہ چونکہ خود انہوں نے کسی طرح کی سٹے بازی میں حصہ نہیں لیا ہے اس لیے وہ مستعفی نہیں ہونگے۔
ادھر دہلی، ممبئی، چنئی، کولکاتا، احمدآباد اور حیدر آباد کی پولیس جس حساب سے سٹے بازوں کو گرفتار کر رہی تھی ایسا لگنے لگا کہ جیسے آئی پی ایل کرکٹ کا ٹورنامنٹ نہیں بلکہ کوئی ملک گیر کسینو ہے۔
بیچارے کروڑوں تماشائی اب سمجھ نہیں پا رہے ہیں کہ کون سا میچ کھلاڑی کھیل رہے تھے اور کون سا سٹے باز۔
چونکہ بھارت کا کرکٹ بورڈ بی سی سی آئی کئی ہزار کروڑ کے اثاثوں اور ہر برس اربوں روپے کی آمدنی کے ساتھ دنیا کا سب سے طاقتور بورڈ ہے اس لیے اس کا اثر و رسوخ بھارت میں ہی نہیں بلکہ دوسرے بورڈوں پر بھی خاصا ہے۔
انڈین بورڈ کی تیس رکنی کمیٹی میں ملک کے بڑے بڑے سیاست داں اور صنعتکار ممبر ہیں۔ ملک کا ہر کوئی چھوٹا بڑا کھلاڑی اور کمینٹیٹرز بورڈ کے تنخواہ یافتہ ہیں۔ بڑے بڑے پرانے کھلاڑی اور مقبول کمنٹیٹرز بورڈ سے کروڑوں روپے کے کنٹریکٹ پر ہیں۔
پچھلے دس برس میں کرکٹ نے بہت تیزی سے صنعت کا روپ لے لیا ہے۔ ایک طرف بورڈ کی دولت اربوں میں میں آنے لگی تو دوسری طرف کھلاڑی بھی فلم اداکاروں سے زیادہ مقبول اور ان سے زیاہ تیزی سے دولت مند ہونے لگے۔

بھارتی بورڈ نے کرکث کو ایک کامیاب تجارتی سیکٹر میں تبدیل کر دیا تھا۔ اس میں اگر خرابی تھی تو بس ایک۔ اور وہ یہ تھی کہ اندھا دھند دولت کے نشے میں کرکٹ بورڈ ایک بد مست ہاتھی بن گیا جس پر قابو پانے کا کوئی راستہ نہ تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بورڈ کا غرور اتنا بڑھ گیا کہ معمولی سی نکتہ چینی بھی کرکٹ کے بڑے بڑے سورماؤں کو خاک چٹا سکتی تھی۔ کھلاڑیوں کے انتخاب سے لے کر پچ کے کیوریٹروں کی تقرری تک کا فیصلہ بورڈ کے صدر اور ان کے قریبی اہلکاروں کی مرضی کے بغیر نہیں ہو سکتا تھا۔
بورڈ سے باہر کھیل کے شیدائیوں کا ایک طبقہ ایک طویل عرصے سے کرکٹ بورڈ میں اصلاح کی مانگ کرتا رہا۔ لیکن نقار خانے میں طوطی کی آواز کہاں تک جاتی۔
بھارتی کرکٹ بورڈ اس وقت پہلی بار بھارت کے کروڑوں کرکٹ شیدائیوں کے سامنے مجرم کی طرح کھڑا ہے۔ وہ سارے کھلاڑی اور بورڈ کے وہ تمام سیاست داں جو کل تک خاموشی سے بورڈ کے صدر کا ساتھ دے رہے تھے وہ ڈوبتے ہوئے جہاز سے ایک ایک کر کے کودنے لگے ہیں۔ مغرور کرکٹ بورڈ کے صدر اگر کل تک مستعفی نہیں ہوتے تو انہیں بر طرف کرنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔
اتوار کی صبح بھارتی کرکٹ بورڈ کی تاریخ میں بہت اہمیت کا حامل ہے۔ کل کی میٹنگ کے بعد بورڈ شاید مستقبل میں کبھی اپنی اس شکل میں واپس نہیں آ سکے گا۔ بورڈ کے غرور نے بھارتی کرکٹ کی روح کو مجروح کیا ہے۔ اگر اتوار کو بورڈ تحلیل ہوا تویہ بھارت میں ہی نہیں پوری دنیا میں کرکٹ کے لیے ایک بہترین صبح ہو گی۔







