بی سی سی آئی کے صدر کا استعفے سے انکار

بھارتی کرکٹ بورڈ بی سی سی آئی کے صدر این سری نیواسن نے آئی پی ایل میچوں میں فکسنگ کے تنازعے کے بعد اپنے عہدے سے دست بردار ہونے سے انکار کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ انڈین پریمیئر ليگ میں میچ فکسنگ اور سپاٹ فکسنگ کے الزامات کے سامنے آنے کے بعد بعض حلقوں سے ان کے استعفے کی مانگ کی جا رہی تھی۔
کولکتہ میں جہاں اتوار کو آئی پی ایل کا فائنل مقابلہ ہو رہا ہے انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ سٹے بازی کے مبینہ معاملے میں ان کے داماد گروناتھ کے کردار کی جانچ کے لیے تین رکنی کمیشن تشکیل دیا جائے گا۔
سری نیواسن کے داماد اور چنی سپر کنگز کے گروناتھ میپّن کو آئی پی ایل میں سٹے بازی کے مبینہ معاملے میں ممبئی پولیس نے جمعے کی رات کو گرفتار کیا تھا۔
کولکتہ میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے این سری نیواسن نے صاف الفاظ میں واضح کر دیا کہ انہوں نے کچھ بھی غلط نہیں کیا ہے اور وہ کسی کے دباؤ میں آ کر استعفی نہیں دیں گے۔
بی سی سی آئی کے صدر نے کہا کہ گروناتھ کے کردار کی جانچ کے لیے جو کمیشن تشکیل دیا جائے گا وہ اس کا حصہ نہیں ہوں گے۔ اس میں ایک رکن بی سی سی آئی کے باہر کا ہوگا۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سٹے بازی کے معاملے میں آئی پی ایل کی ٹیم راجستھان رائلز کی مینجمنٹ کے کردار کی بھی جانچ ہوگی۔
پریس کانفرنس کے آغاز میں سری نیواسن نے کہا کہ ’گزشتہ کچھ دن بطور والد اور خسر مشکل رہے ہیں لیکن میں یہاں بی سی سی آئی کے صدر کی حیثیت سے بیٹھا ہوں۔ میں کسی بھی ذمہ داری سے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ بی سی سی آئی بغیر کسی تعصب کے کسی بھی فرد، افسر یا فرنچائزی کے خلاف قدم اٹھائے گا جو قصوروار پائے جائیں گے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’بی سی سی آئی نے گروناتھ کو کرکٹ اور چنئی سپر کنگز کی سرگرمیوں سے عارضی طور پر معطل کر دیا ہے۔‘
بی سی سی آئی کے صدر نے یہ بھی واضح کیا کہ ’بورڈ متحد ہے اور کسی نے بھی ان سے استعفے کا مطالبہ نہیں کیا ہے‘۔
این سری نیواسن نے میڈیا کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ میڈیا میں ان کے متعلق غلط خبریں نشر کی گئیں۔
سری نیواسن نے آئی پی ایل کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ مقابلہ بی سی سی آئی کے لیے بہت اہم ہے کیونکہ اس سے نوجوان کھلاڑیوں کو بین الاقوامی سطح کے کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنے کا موقع ملتا ہے اوراس سے کرکٹ کو نئے ناظرین بھی ملتے ہیں۔‘



