کرکٹ شہرت اور دولت کا دوسرا نام بن چکا ہے

    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

بھارت میں کرکٹ کا مقبول کھیل اس وقت تاریخ کے اب تک کے اپنے سب سے بد ترین دور سے گزر رہا ہے۔ آئی پی ایل کے میچوں میں سپاٹ فکسنگ کے واقعے نے کرکٹ کے شائقین کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ انڈین پریمئیر لیگ جب اپنے مقابلے کے آخری مراحل میں پہنچ رہی تھی اور جس وقت یہ مقایلہ ہر لمحے دلچسپ ہوتا جا رہا تھا اسی وقت دنیا کے اس عظیم کھیل پر قیامت ٹوٹ پڑی۔

کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ شری سنت جیسا قومی کھلاڑی پیسوں کی لالچ میں اپنے تماشائیوں اور اپنے کھیل کے ساتھ کبھی دغا کر سکتا ہے۔

اخبارات میں کل سے انتہائی تکلیف دہ اور افسردہ کرنے والی تصویریں شائع ہو‏ رہی ہیں۔ شری سنت اور ان کے دو ساتھی کھلاڑیوں کو عام مجرموں کی طرح چہرے کو کپڑے سے ڈھکے ہوئے عدالت لے جاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ یہی کھلاڑی کل تک کروڑوں دلوں کی دھڑکن بنے ہوئے تھے۔

پولیس اب تک ممبئی، دلی، احمدآباد، چنئی اور کوچین سے پندرہ سے زیادہ سٹے باووں کو گرفتار کر چکی ہے۔ کھیلوں میں سپاٹ فکسنگ کا یہ معاملہ دور تک پھیلا ہوا ہے اور پولیس مزید کئی میچوں کا جائزہ لے رہی ہے۔

کرکٹ کے کھیل میں کامیاب ہونا پریوں کی کہانیوں کی طرح ہے۔ کامیاب کرکٹ کھلاڑی انتہائی کم عمری مین نہ صرف یہ کہ بے پناہ مقبولیت اور عزت حاصل کر رہے ہیں بلکہ بہت سے کھلاڑی اربوں روپے کما رہے ہیں۔ بیشتر قومی کھلاڑی چند برس کے اندر اربوں روپے کما چکے ہوتے ہیں۔ کرکٹ شہرت اور دولت کا دوسرا نام بن چکا ہے۔

کرکٹ کی اصل دھارا میں جمے رہنے کے لیے کھلاڑیوں کو سخت مقابلے کا سامنا ہے۔ ایک وقت تھا جب صرف دو ملکوں کے درمیان میچ ہوا کرتے تھے اور صرف ایک قومی ٹیم ہوا کرتی تھی۔

لیکن آئی پی ایل نے کرکٹ کی پوری دنیا ہی بدل دی ہے۔ اس میں آٹھ سے زیادہ ٹیمیں کھیل رہی ہیں۔ آئی پی ایل نے کرکٹ کو مقبولیت اور دولت کی نئی اونچائیوں پر پہنچا دیا۔ فلم سٹارز اور بڑے بڑے صنعت کار کھلاڑیوں کے مالک بن گئے۔ دولت کے ساتھ ساتھ اس میں گلیمر بھی شامل ہو گیا۔

چھوٹے چھوٹے دور دراز کے شہروں سے آئے ہوئے کامیاب کھلاڑی جن میں ابھی کچھ تو نوعمری سے ہی گزر رہے ہیں اچانک کروڑوں میں کھیلنے لگے۔ کرکٹ کا کھیل اپنی جگہ قائم رہا لیکن اب وہ دولت کے حصول کا محض ذریعہ بنتا گیا۔ کرکٹ کئی ہزار کروڑ روپے کا گیم بن گیا۔

اچانک اور بے پناہ دولت نے حرص و ہوس کو جنم دیا۔ سینکڑوں ملکی اور غیر ملکی سٹے باز بھی اس بہترین موقع کی تلاش میں تھے۔ دولت کی لالچ میں بعض کھلاڑی ان کے دام میں پھنس ہی گئے۔ سٹے باز محض ایک اوور کی خراب بولنگ کے لیے ساٹھ لاکھ روپے تک دے رہے تھے۔

سٹے کا کاروبار پورے ملک میں پھیلا ہوا ہے۔ خود پولیس کا اندازہ ہے کہ آئی پی ایل کے بڑے میچوں کے دوران منٹوں میں سٹے کی مالیت کئی بار اربوں روپے تک پہنچ جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سٹے بازی میں پورے ملک میں غیر قانونی طور پر لاکھوں لوگ حصہ لے رہے ہیں۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی اینٹی کرپشن شاخ کے ایک رکن نے الزام لگایا ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر یہ جوا کیا پولیس کی جانکاری کے بغیر ممکن ہے؟

حقیقت جو بھی ہو ۔ کرکٹ اس وقت بری طرح شرمسار ہے۔ بہت سے کمنٹیٹرز 1999 سے بھارتی کرکٹ بورڈ کو میچ فکسنگ اور سٹے بازی کے خطرات سے آگاہ کرتے رہے ہیں۔ لیکن بورڈ کا رویہ ہمیشہ مغرور اور حقارت آمیز رہا۔ آج اگر کچھ کھلاڑیوں نے کرکٹ اور اس کے شائقین کو ذلیل کیا ہے تو اس جرم میں بھارتی کرکٹ بورڈ بھی اپنی بے عملی اور تکبر کے سبب برابر کا شریک ہے۔