کرکٹ نفرت کا نیا ہتھیار
انڈین پریمیئر لیگ کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں اور ٹی وی چینلوں پر طرح طرح کے اشتہارات تین اپریل سے شروع ہونے والے مقابلے کو مشتہر کر رہے ہیں۔
آسٹریلیا کو شکست فاش دینے کے بعد بھارتی کھلاڑی اور کرکٹ بورڈ دونوں ہی مسرور ہیں۔
فضا میں پریمیئر لیگ کا ماحول بنتا جا رہا ہے لیکن کرکٹ کے کھیل کے اس بہترین پس منظر میں بھارتی سیاسی رہنماؤں نے ایک بار پھر کرکٹ پر وار کیا ہے۔
سری لنکا میں تمل ٹائیگرز کے خلاف جنگ کے دوران سری لنکن فوجیوں کے ہاتھوں حقوق انسانی کی پامالیوں کے سوال پر تمل ناڈو ریاست کے سیاسی رہنما اتنے برہم ہوئے کہ انہوں نے یہ اعلان کر دیا کہ وہ سری لنکا کے کھلاڑیوں کو تمل ناڈو میں کھیلنے نہیں دیں گے۔
کمار سنگاکارا، مرلی دھرن، اجنتھا مینڈیس، تلکارتنے دلشان، لستھ ملنگا اور مہیلا جے وردھنے جیسے بہترین کھلاڑی بھارتی لیگ کی بعض ٹیموں میں شامل ہیں اور وہ پریمئیر لیگ میں شرکت کے لیے تیاریاں کر رہے تھے۔
تمل ناڈو کی حکمراں جماعت آل انڈیا انا ڈی ایم کے نے سب سے پہلے ان کھلاڑیوں کے کھیلنے پر اعتراض کیا۔ پھر حزب اختلاف کی جماعتیں کیسے پیچھے رہتیں۔ ان سیاسی رہنماؤں نے بھارتی کرکٹ بورڈ اور پریمئیر لیگ کے منتظمین سے کہا کہ وہ سری لنکا کے کھلاڑیوں کو تمل ناڈو میں نہیں کھیلنے دیں گے ۔
بھارتی کرکٹ بورڈ چونکہ کھیل سے زیادہ ایک تجارتی ادارہ ہے اس لیے اسے بھی ملک کی سیاست کے حساب سے چلنا پڑتا ہے۔ بورڈ نے بغیر کوئی وقت ضائع کیے یہ اعلان کر دیا کہ سری لنکا کے کھلاڑی چنئی میں نہیں کھیلیں گے۔
کرکٹ ایک عرصے سے نفرت کی سیاست کا شکار رہی ہے۔ کبھی لاہور میں کرکٹ کھلاڑیوں پر دہشت گرد حملہ کرتے ہیں تو کبھی دلی اور ممبئی میں پاکستانی کھلاڑیوں کو کھیلنے کی اجازت نہیں ملتی تو کبھی سری لنکا کے کھلاڑی برصغیر کی نفرت کی سیاست شکار ہوتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کچھ دنوں پہلے سری لنکن کھلاڑیوں کی مخالفت کے سبب چنئی میں ایک بین الاقوامی ایتھلیٹیک میٹ منسوخ کرنی پڑی ۔ یہی نہیں آسٹریلیا کے خلاف ایک ٹیسٹ میچ کے دوران ایک سری لنکن امپائر کی موجودگی پر بھی تمل ناڈو کی سیاسی جماعتیں بری طرح برہم ہوئیں۔
فضا میں نفرتوں کا بول بالا ہے۔ تمل ناڈو کی اسمبلی نےگزشتہ دنوں ایک قرار داد منظور کی جس میں حکومت ہند سے کہا گیا ہے کہ وہ سری لنکا کو دشمن ملک قرار دے۔ نفرتوں کی اس سیاست میں کھیل اور کھلاڑی ہی سیاست کی زد پر ہیں۔ پاکستان کے بعد اب شاید سری لنکا کے ساتھ بھی کرکٹ کا سلسلہ ٹوٹنے والا ہے۔ کرکٹ کا کھیل نفرت کا نیا ہتھیار بن چکا ہے۔







