فحش ویب سائٹوں میں اضافے پر تشویش

پورن ویب سائٹ
،تصویر کا کیپشنوالدین کی غیر موجودگی میں بڑی تعداد میں بچے ان سائٹس کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں

انٹرنٹ پر فحش ویب سائٹوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے بھارتی سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا ہے اور اس سلسلے میں ایک نوٹس بھی جاری کیا ہے۔

بھارتی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق پیر کو چیف جسٹس التمش کبیر کی صدارت میں اطلاعات و نشریات کی وزارت اور دیگر شعبوں کو ایک نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ اس نوٹس میں کہا گیا ہے کہ انٹرنٹ پر بچوں سے متعلق فحش مواد مسلسل فراہم کیے جا رہے ہیں۔

والدین کی غیر موجودگی میں بڑی تعداد میں بچے ان ویب سائٹس کی جانب متوجہ ہو رہے ہیں۔

نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ان سائٹس پر فراہم کیے جا رہے فحش مواد سے بچوں کے نرم و نازک دل و دماغ پر برا اثر ہو رہا ہے۔ اس میں یہ دلیل بھی دی گئی ہے کہ انہیں سب وجوہات کی بنا پر سماج میں جرا‏ئم میں اضافہ ہو رہا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ عرض گزار کملیش واسواني نے سپریم کورٹ سے اپیل کی ہے کہ انٹرنٹ پر جاری ان فحش سائٹس پر فوری پابندی لگائی جائے۔ پی ٹی آئی کے مطابق عدالت نے اسی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔

ویب سائٹوں پر پورن یا فحش مواد اب اتنا عام ہو چکا ہے کہ ایک سروے کے مطابق زیادہ تر بچے 11 سال کی عمر تک اس سے کسی نہ کسی صورت میں متعارف ہو چکے ہوتے ہیں۔

انٹرنیٹ پر ہونے والی سرچ یا تلاش میں سے 25 فیصد مواد پارن سے متعلق ہوتے ہیں اور ہر سیکنڈ کم سے کم 30 ہزار لوگ اس طرح کی سائٹ دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

اطفال کے پورن سائٹ دیکھنے کا ایک بڑا نقصان ہے ان کے اندر جنسی ہلچل کا پیدا ہونا اور یہ تیزی کے ساتھ بڑھ رہا ہے جو والدین کے لیے پریشان کن بنتا جا رہا ہے۔

بھارت جیسے ترقی پذیر ملک میں ان بچوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جن کے پاس ذاتی کمپیوٹر، انٹرنٹ کنکشن اور سمارٹ فون موجود ہے اور اسی لیے پورن سائٹس سے متاثر ہونے کے ان کے خطرے بھی بڑھ رہے ہیں۔