
بھارت کے صدر جمہوریہ نے اجمل قصاب کی پھانسی کی سزا ملتوی کرنے کی اپیل مسترد کردی تھی
پونے میں یرواڈا جیل کے حکام کا کہنا ہے کہ پھانسی پر لے جانے سے پہلے اجمل امیر قصاب کے چہرے پر گھبراہٹ تو تھی لیکن وہ بہت خاموش تھے۔
انہیں بدھ کی صبح ساڑھے سات بجے پونے کی یروڈا جیل میں پھانسی دیدی گئي۔
بھارتی خبر رساں ادارہ پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق پھانسی سے پہلے اجمل قصاب نے نماز ادا کی۔
خبر رساں ادارے مطابق جیل کے ایک افسر نے بتایا ہے’اجمل قصاب کی باڈی لینگویج سے ہمیں یہ معلوم پڑا کہ وہ گھبرا رہے تھے لیکن پھانسی کے لیے جیل سے باہر لے جانے تک وہ پوری طرح خاموش رہے۔‘
افسر کے مطابق اجمل نے پہلے نماز پڑھی اور پھر پوچھا کہ ان کی پھانسی سے متعلق ان کے اہل خانہ کو آگاہ کیا گيا ہے یا نہیں، اس پر جیل کے حکام نے انہیں بتایا کہ انہیں آگاہ کر دیا گیا ہے۔
اس سے پہلے مہاراشٹر کے وزیر داخلہ آر آر پاٹل نے کہا تھا کہ پھانسی سے پہلے قصاب نے کسی خواہش یا وصیت کا اظہار نہیں کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ جب ان سے کسی آخری خواہش یا وصیت کے بارے میں پوچھا گيا تو انہوں نے صرف یہ کہا کہ پاکستان میں ان کی ماں کو اس بارے میں مطلع کر دیا جائے۔
بھارتی وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ ان کی پھانسی سے متعلق پاکستان کو آگاہ کر دیا گیا تھا اور جو پتا اجمل قصاب نے فراہم کیا تھا اس پر بھی پھانسی کے متعلق معلومات بھیجی گئی تھیں۔






























