اجمل قصاب کو دفنا دیا گیا

آخری وقت اشاعت:  بدھ 21 نومبر 2012 ,‭ 06:41 GMT 11:41 PST
اجمل قصاب

بھارت کے صدر جمہوریہ نے اجمل قصاب کی پھانسی کی سزا ملتوی کرنے کی اپیل مسترد کردی تھی

چار برس قبل مبئی پر ہونے والے شدت پسندانہ حملوں کے واحد زندہ بچنے والے مجرم اجمل قصاب کو بدھ کی صبح پھانسی دیے جانے کے بعد پاکستان کی جانب سے ان کی لاش کو لینے کے بارے میں کوئی ردعمل نہ آنے پر ان کو پونے کی جیل کے احاطے میں ہی دفن کردیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق چونکہ پاکستان کی حکومت کی جانب سے اجمل قصاب کی لاش کا مطالبہ نہیں کیا گیا ہے اس لیے ان کی لاش کو پونے کی يروڈا جیل کے احاطے میں ہی دفن کردیا گیا ہے۔

اس سے قبل بھارت کی حکومت نے کہا تھا کہ اگر پاکستان کی جانب سے لاش کی مطالبہ کیا جاتا تو وہ اجمل کی لاش انہیں سونپ دے گا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل ممبئی حملوں کے دوران مارے جانے والے نو مبینہ شدت پسندوں کی لاش لینے سے پاکستان نے انکار کردیا تھا اور کئی دنوں کے انتظار کے بعد بھارتی حکومت نے انہیں بھارت میں ہی کسی نامعلوم مقام پر دفن کردیا تھا۔

اس بارے میں مرکزی وزیر داخلہ سشیل کمار شندے سے جب پوچھا گیا تو ان کا جواب تھا ’اگر پاکستان کی حکومت قصاب کی لاش کا مطالبہ کرتی ہے تو ہم انہیں لاشیں سونپ دیں گے۔‘

شنڈے کے مطابق پاکستان کو قصاب کو پھانسی دیے جانے کے بارے میں مطلع کردیا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ ہ پاکستان نے سرکاری طور پراس بارے میں بھیجا گیا خط قبول کرنے سے انکار کردیا جس کے بعد انہیں فیکس کے ذریعے اطلاع بھیجی گئی تھی۔

وہیں بھارت کے وزیر خارجہ سلمان خورشید نے بھی کہا ہے کہ پاکستان کو اجمل قصاب کی پھانسی کے بارے میں پہلے سے ہی اطلاع بھیج دی گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق دلی میں واقع پاکستانی سفارتخانے نے بھی اس بارے میں کچھ بھی کہنے سے انکار کردیا ہے۔

واضح رہے کہ اجمل قصاب کو بدھ کی صبح تقریبا ساڑھے سات بجے پونے کی يروڈا جیل میں پھانسی دے دی گئی ہے۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>