
بھارت کے صدر جمہوریہ نے اجمل قصاب کی پھانسی کی سزا ملتوی کرنے کی اپیل مسترد کردی تھی
چار برس قبل مبئی پر ہونے والے شدت پسندانہ حملوں کے واحد زندہ بچنے والے مجرم اجمل قصاب کو بدھ کی صبح پھانسی دیے جانے کے بعد پاکستان کی جانب سے ان کی لاش کو لینے کے بارے میں کوئی ردعمل نہ آنے پر ان کو پونے کی جیل کے احاطے میں ہی دفن کردیا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق چونکہ پاکستان کی حکومت کی جانب سے اجمل قصاب کی لاش کا مطالبہ نہیں کیا گیا ہے اس لیے ان کی لاش کو پونے کی يروڈا جیل کے احاطے میں ہی دفن کردیا گیا ہے۔
اس سے قبل بھارت کی حکومت نے کہا تھا کہ اگر پاکستان کی جانب سے لاش کی مطالبہ کیا جاتا تو وہ اجمل کی لاش انہیں سونپ دے گا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل ممبئی حملوں کے دوران مارے جانے والے نو مبینہ شدت پسندوں کی لاش لینے سے پاکستان نے انکار کردیا تھا اور کئی دنوں کے انتظار کے بعد بھارتی حکومت نے انہیں بھارت میں ہی کسی نامعلوم مقام پر دفن کردیا تھا۔
اس بارے میں مرکزی وزیر داخلہ سشیل کمار شندے سے جب پوچھا گیا تو ان کا جواب تھا ’اگر پاکستان کی حکومت قصاب کی لاش کا مطالبہ کرتی ہے تو ہم انہیں لاشیں سونپ دیں گے۔‘
شنڈے کے مطابق پاکستان کو قصاب کو پھانسی دیے جانے کے بارے میں مطلع کردیا تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ ہ پاکستان نے سرکاری طور پراس بارے میں بھیجا گیا خط قبول کرنے سے انکار کردیا جس کے بعد انہیں فیکس کے ذریعے اطلاع بھیجی گئی تھی۔
وہیں بھارت کے وزیر خارجہ سلمان خورشید نے بھی کہا ہے کہ پاکستان کو اجمل قصاب کی پھانسی کے بارے میں پہلے سے ہی اطلاع بھیج دی گئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق دلی میں واقع پاکستانی سفارتخانے نے بھی اس بارے میں کچھ بھی کہنے سے انکار کردیا ہے۔
واضح رہے کہ اجمل قصاب کو بدھ کی صبح تقریبا ساڑھے سات بجے پونے کی يروڈا جیل میں پھانسی دے دی گئی ہے۔






























