
قصاب نے ممبئی ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا
بھارت کی وزارت داخلہ نے ممبئی پر حملہ کرنے والوں میں سے واحد زندہ بچنے والے مجرم اجمل امیر قصاب کی رحم کی اپیل کو مسترد کر دیا ہے۔
وزارت داخلہ نے منگل کو اس سے متعلق اپنی سفارشات صدر مملکت پرنب مکھرجی کو بھیجیں۔
گزشتہ ماہ اجمل امیر قصاب نے اپنی موت کی سزا معاف کرنے کے لیے بھارتی صدر سے رحم کی اپیل کی تھی۔ اس سے پہلے بھارتی سپریم کورٹ نے ان کی موت کی سزا کو برقرار رکھا تھا جس کے بعد پھانسی سے بچنے کا آخری راستہ صدر سے رحم کی اپیل ہوتا ہے۔
بھارت میں روایتی طور پر صدر مملکت اس طرح کے فیصلے حکومت کی سفارشات کی بنیاد پر کرتے ہیں اور وزارت داخلہ کی طرف سے رحم کی اپیل مسترد کیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ اب صدر کو جلدی فیصلہ کرنے میں آسانی ہوگي۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اجمل قصاب نے بھارتی صدر پرنب مکھرجی سے رحم کی اپیل کی تھی اور ان کی درخواست صدر کے پاس بھیجی جا چکی ہے۔
اس سے قبل بھارتی سپریم کورٹ نے اجمل قصاب کی سزائے موت کے خلاف اپیل مسترد کرتے ہوئے سزا برقرار رکھی تھی۔
اجمل قصاب چھبیس نومبر 2008 کو ممبئی پر حملے میں دس حملہ آوروں کے گروپ کا حصہ تھے۔ ان کے باقی ساتھی پولیس کے ہاتھوں مارے گئے تھے لیکن قصاب کو حملے کے دوران زندہ پکڑ لیا گیا تھا۔
انہیں ایک مقدمے میں ممبئی کی ایک ذیلی عدالت نے موت کی سزا سنائي تھی۔ گزشتہ فروری میں ممبئی ہائی کورٹ نے ذیلی عدالت کی طرف سے قصاب کو سنائی گئی موت کی سزا کی توثیق کر دی تھی۔
سپریم کورٹ کی دو رکنی بینچ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا ’ہمارے پاس سزائے موت دینے کے علاوہ کوئی اور آپشن نہیں ہے۔ قصاب کا سب سے پہلا اور سب سے اہم جرم یہ ہے کہ اس نے بھارت کی حکومت کے خلاف جنگ کی۔‘
عدالت عظمیٰ نے اجمل قصاب کے اس دعوے کو بھی مسترد کیا کہ ممبئی میں ان کے خلاف مقدمے کی منصفانہ سماعت نہیں ہوئی تھی کیونکہ انہیں اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے وکیل کی خدمات فراہم نہیں کی گئی تھیں۔
بینچ نے کہا کہ مقدمے کی سماعت کے ابتدائی مراحل میں ذیلی عدالت نے قصاب کو کئی مرتبہ وکیل کی خدمات فراہم کرنے کی پیشکش کی تھی جسے انہوں نے نامنظور کر دیا تھا۔
قصاب کا تعلق پاکستان سے ہے۔ انہوں نے اپنے دیگرساتھیوں کے ہمراہ ممبئی کے ریلوے سٹیشن، تاج ہوٹل، اوبیرائے ہوٹل، ناریمن ہاؤس اور لیوپولڈ کیفے پر ایک ساتھ حملہ کیا تھا۔ اس میں متعدد غیر ملکیوں سمیت 166 افراد ہلاک اور 238 زخمی ہوئے تھے۔






























