قصاب کے مقدمے کی سپریم کورٹ میں سماعت

،تصویر کا ذریعہAFP
بھارت کے صنعتی شہر ممبئی پر حملہ کرنے والوں میں سے واحد زندہ بچنے والے حملہ آور اجمل امیر قصاب نے سپریم کورٹ سے کہا ہے کہ ذیلی عدالتوں میں ان کے مقدمے کی آزادانہ و منصفانہ سماعت نہیں ہوئي۔
اس حملے کے جرم میں انہیں سیشن عدالت اور ممبئی ہائی کورٹ سے موت کی سزا سنائی گئی تھی۔
اسی سزا کے خلاف انہوں نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی جس پر منگل کو پہلی بار سماعت ہوئي۔
سپریم کورٹ میں سماعت کے لیے ان کے لیے سینیئر وکیل راجو رام چندرن کو متعین کیا گیا ہے جنہوں نے اجمل امیر قصاب کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھارت کے خلاف جنگ چھیڑنے جیسی کسی بڑی سازش کا حصہ نہیں تھے۔
بھارتی خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق راجیو رام چندرن نے دلیل دیتے ہوئے کہا ’اگر میں بھارت کی دفعہ تین سو دو ( قتل کا مجرم) یا دوسری دفعات کے تحت مجرم بھی ہوں تو بھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ میں بھارت کے ساتھ جنگ چھیڑنے جیسی کسی بڑی سازش میں شامل تھا۔‘
رام چندرن نے کہا کہ سرکاری وکلا نے جو بھی کیس ثابت کیا ہے وہ شک سے مبرا نہیں اور اپنے دفاع کے لیے ایک مناسب وکیل کے ذریعے نمائندگی کا جو اجمل کا حق ہے اس کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔
سپریم کورٹ کی جو بینچ قصاب کے کیس کی سماعت کر رہی ہے اس کی قیادت جسٹس آفتاب عالم کر رہے ہیں۔
اس سے پہلے ممبئی ہائی کورٹ نے اجمل امیر قصاب کی موت کی سزا کی توثیق کر دی تھی لیکن گزشتہ برس دس اکتوبر کو سپریم کورٹ نے اس فیصلے کو روک دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اجمل قصاب نے سپریم کورٹ میں موت کی سزا کے خلاف اپنی ایپل میں کہا کہ خدا کے نام پر ایسے بھیانک جرائم کے لیے ان کے ذہن کو ورغلایا گيا تھا اور اتنی کم عمری میں وہ موت کی سزا کے مستحق نہیں ہیں۔
نومبر سنہ دو ہزار آٹھ میں دس شدت پسندوں نے ممبئی پر حملہ کیا تھا اور تقریباً تین دن جاری رہنے والی اس کارروائی میں ڈیڑھ سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔
حملہ آوروں میں سے اجمل امیر قصاب ہی زندہ پکڑے گئے جبکہ باقی سب مقابلے میں مارے گئے تھے۔ اجمل امیر قصاب تب سے ممبئی کی آرتھر روڈ جیل میں قید ہیں۔
بھارتی حکومت کا الزام ہے کہ حملہ آوروں کا تعلق لشکر طیبہ سے تھا اور یہ کہ پاکستان نے حملے کی سازش تیار کرنے والوں کے خلاف خاطر خواہ کارروائی نہیں کی ہے۔







