اجمل قصاب کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار

آخری وقت اشاعت:  بدھ 29 اگست 2012 ,‭ 05:33 GMT 10:33 PST

قصاب نے ممبئی ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا

بھارت کی سپریم کورٹ نے ممبئی حملے کے واحد زندہ بچ جانے والے حملہ آور اجمل قصاب کی سزائے موت کے خلاف اپیل مسترد کرتے ہوئے سزا برقرار رکھی ہے۔

قصاب 26 نومبر 2008 کو ممبئی پر حملے میں ایک دس رکنی فدائین گروپ کا حصہ تھے۔ ان کے باقی ساتھی پولیس کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔ قصاب کو حملے کے دوران زندہ پکڑ لیا گیا تھا۔

انہیں ایک تیز رفتار مقدمے کے بعد ممبئی کی ایک ذیلی عدالت موت کی سزا سنا چکی ہے۔ گزشتہ فروری میں ممبئی ہائی کورٹ نے ذیلی عدالت کی طرف سے قصاب کو سنائی گئی موت کی سزا کی توثیق کر دی تھی۔

سپریم کورٹ کی دو رکنی بینچ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا ’ہمارے پاس سزائے موت دینے کے علاوہ کوئی اور آپشن نہیں ہے۔قصاب کا سب سے پہلا اور سب سے اہم جرم یہ ہے کہ اس نے بھارت کی حکومت کے خلاف جنگ کی۔‘

عدالت عظمیٰ نےاجمل قصاب کے اس دعوے کو بھی مسترد کیا کہ ممبئی میں ان کے خلاف مقدمے کی منصفانہ سماعت نہیں ہوئی تھی کیونکہ انہیں اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے وکیل کی خدمات فراہم نہیں کی گئی تھیں۔

بنچ نے کہا کہ مقدمے کی سماعت کے ابتدائی مراحل میں ذیلی عدالت نے قصاب کو کئی مرتبہ وکیل کی خدمات فراہم کرنے کی پیش کش کی تھی جسے انہوں نے نامنظور کردیا تھا۔

سپیرم کورٹ میں اجمل قصاب کی جانب سے سینئر وکیل راجو رام چندرن پیش ہوئے جن کا کہنا تھا کہ ابتدائی مراحل میں وکیل نہ ملنے سے سماعت کا عمل متثاثر ہوا تھا۔ ’اگر قصاب کو شروع سے ہی ایک وکیل کی خدمات حاصل ہوتیں تو پھر یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ کیا پھر بھی وہ اقبالیہ بیان دیتے؟‘

"سپریم کورٹ ملک کی سب سے بڑی عدلیہ ہے اور وہ جو فیصلہ کرتی ہے وہ ملک کا قانون بن جاتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ پاکستان اس پر توجہ دینے میں ناکام نہیں رہیگا۔"

ایس ایم کرشنا

ادھر تہران میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے کہا ’سپریم کورٹ ملک کی سب سے بڑی عدالت ہے اور وہ جو فیصلہ کرتی ہے وہ ملک کا قانون بن جاتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ پاکستان اس پر توجہ دے گا۔‘

بھارت کے وزیر اعظم منوہن سنگھ اور وزیر خارجہ تہران میں نان آیلائنڈ مؤمنٹ یعنی غیر جانبدار ممالک کی تحریک کی سربراہی کانفرنس میں شرکت کے لیے ایران میں ہیں۔ پاکستانی صدر آصف علی زرداری بھی اسی مقصد سے ایران میں موجود ہیں اور جمعرات کو منموہن سنگھ اور آصف علی زرداری کے درمیان ملاقات بھی ہونے والی ہے۔

دلی میں ہمارے نامہ نگار شکیل اختر نے بتایا کہ ذیلی عدالت میں قصاب کو مجرمانہ سازش، ریاست کے خلاف جنگ چھیڑنے، اقدام قتل اور انسداد دہشت گردی قانون کے تحت مختنف معاملات کا مجرم پایا گیا ہے۔ انہیں اسلحہ ایکٹ، دھماکہ خیز مدہ ایکٹ، پاسپورٹ ایکٹ، غیر ملکی ایکٹ اور ریلوے ایکٹ کے دیگر 19 معاملات میں قصوروار پایا گیا تھا۔ ہائی کورٹ نے گزشتہ برس اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ یہ معاملہ اس سنگین نوعیت کے جرم کے زمرے میں آتا ہے جس میں موت کی سزا دی جاتی ہے۔

قصاب نے ممبئی ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ قصاب کی اپیل دائر ہونے کے بعد سپریم کورٹ نے انصاف کے تقاضوں کے پیش نظر اس مقدمے میں قصاب کا دفاع کرنے کے لیے دو سینیئر وکلاء راجو رام چندرن اور گورو اگروال کو عدالت کا معاون مقرر کیا تھا۔

اس مقدمے میں مہاراشٹر حکومت کی نمائندگی سینیئر وکلاءگوپال سبرا منیم اور اور اجول نکم کر رہے ہیں۔

جسٹس آفتاب عالم اور اور جسٹس سی کے پرساد پر مشتمل دو ججون کی ایک بینچ اس معاملے میں دو بھارتی شہریوں فہیم احمد اور صباح الدین کا بھی فیصلہ کرے گی جنہیں پولیس نے شریک ملزم قرار دیا تھا۔ لیکن ان کے خلاف کوئی ثبوت نہ ہونے کے سبب ٹرائل کورٹ نے انہیں بری کر دیا تھا اور ہائی کورٹ نے بھی اس فیصلے کی تو ثیق کی تھی ۔ لیکن مہاراشٹر حکومت نے عدالت کے فیصلے کو چیلنج کیا ہے۔

قصاب کا تعلق پاکستان سے ہے۔ انہوں نے اپنے دیگرساتھیوں کے ہمراہ ممبئی کے ریلوے سٹیشن، تاج ہوٹل، اوبیرائے ہوٹل، ناریمن ہاؤس اور لیوپولڈ کیفے پر ایک ساتھ حملہ کیا تھا۔ اس میں متعدد غیر ملکی سمیت 166 افراد ہلاک اور 238 زخمی ہوئے تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>