اجمل قصاب پر کروڑوں کا سرکاری خرچ

،تصویر کا ذریعہAP
بھارتی شہر ممبئی میں سنہ دو ہزار آٹھ کے حملوں کے دوران گرفتار کیے جانے والے واحد شدت پسند اجمل امیر قصاب پر مہاراشٹر کی حکومت اب تک تقریباً سولہ کروڑ روپے خرچ کر چکی ہے۔
ممبئی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق اس میں سے زیادہ تر رقم قصاب کے لیے خصوصی حفاظتی انتظامات پر خرچ کی گئی ہے جبکہ ان کے کھانے پینے پر روزانہ صرف ستائیس روپے خرچ کیے جاتے ہیں۔
ان حملوں کے سلسلے میں قصاب کو موت کی سزا سنائی جا چکی ہے اور اس فیصلے کے خلاف انہوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ اس رقم میں قصاب کے خلاف قانونی کارروائی کے اخراجات شامل نہیں ہیں۔
مہاراشٹر حکومت نے ممبئی حملوں کی تیسری برسی سے پہلے یہ اعداد و شمار عام کیے ہیں۔
اس مقدمے کے سپریم کورٹ تک پہنچنے سے پہلے تک قانونی کارروائی پر بارہ لاکھ روپے خرچ ہوئے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران سرکاری وکیل اجول نکم کو پچاس ہزار روپے یومیہ دیے جائیں گے۔
وہ دلی سے ممبئی کا ہوائی سفر بزنس کلاس میں کریں گے اور ان کے قیام کا انتظام ریاست کے گیسٹ ہاؤس کے وی آئی پی کمرے میں کیا جائےگا۔
اخباری اطلاعات کے مطابق وزارتِ داخلہ میں پرنسپل سیکرٹری میدھا گاڈگل نے کہا ’جیل میں قصاب کے لیے ایک خصوصی سیل تیار کرنے کے لیے ہمیں بڑی رقم خرچ کرنا پڑی کیونکہ وہ ایک ’ہائی رسک‘ قیدی ہیں۔ اور ان کی سکیورٹی کے علاوہ اور کسی کام پر زیادہ پیسہ خرچ نہیں ہوا ہے۔‘
قصاب کی حفاظت کے لیے انڈو تبتی بارڈر پولیس کے بیس کمانڈوز تعینات رہتے ہیں اور جولائی سنہ دو ہزار گیارہ تک ان کی خدمات کے لیے ریاستی حکومت نے پونے گیارہ کروڑ روپے خرچ کیے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک رپورٹ کے مطابق قصاب کے علاج پر اب تک ستائیس ہزار روپے خرچ کیے گئے ہیں لیکن فی الحال ان کے لیے جو انتظامات کیے گیے ہیں ان میں کسی تبدیلی کا پروگرام نہیں ہے۔
جب جب اس طرح کی خبریں آتی ہیں تو بھارتیہ جنتا پارٹی اور بعض حلقوں کی طرف سے یہ مطالبات بھی تیز ہوجاتے ہیں کہ قصاب کو فوراً پھانسی دی جانی چاہیے۔
پاکستان کے وزیرِداخلہ رحمان ملک نے بھی حال ہی میں کہا تھا کہ قصاب ایک ’دہشت گرد ہیں اور انہیں پھانسی دیدی جانی چاہیے۔‘
نومبر سنہ دو ہزار آٹھ میں دس شدت پسندوں نے ممبئی پر حملہ کیا تھا اور تقریباً تین دن جاری رہنے والی اس کارروائی میں ڈیڑھ سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔
بھارتی حکومت کا الزام ہے کہ حملہ آوروں کا تعلق لشکر طیبہ سے تھا اور یہ کہ پاکستان نے حملے کی سازش تیار کرنے والوں کے خلاف خاطر خواہ کارروائی نہیں کی ہے۔







