
محمد امیر اجمل قصاب ممبئی پر ہونے والے حملے میں زندہ بچ جانے والے واحد حملہ آور تھے
چھبیس نومبر دو ہزار آٹھ کو ممبئی میں ہونے والے شدت پسندی کے حملوں کے مجرم پاکستانی شہری اجمل قصاب کو بدھ کی صبح پھانسی دے دی گئی ہے۔
بھارت کے مرکزی وزیر داخلہ سشیل کمار شنڈے نے اجمل قصاب کو پھانسی دیے جانے کی خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اجمل قصاب کو پونے کی يروڈا جیل میں بدھ کی صبح ساڑھے سات بجے پھانسی دے دی گئی۔
اطلاعات کے مطابق چونکہ پاکستان کی حکومت کی جانب سے اجمل قصاب کی لاش کا مطالبہ نہیں کیا گیا تھا اس لیے ان کی لاش کو پونے کی يروڈا جیل کے احاطے میں ہی دفنا دیا گیا ہے۔
کلِک حملے سے پھانسی تک: ٹائم لائن
کلِک کلِک قصاب نے پھانسی سے پہلے کیا کیا اور کیا کہا
سشیل کمار شنڈے کے مطابق وزارتِ داخلہ نے اجمل قصاب کی رحم کی درخواست کی فائل سولہ اکتوبر کو صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی کے پاس بھیج دی تھی اور صدر نے قصاب کی رحم کی درخواست کو مسترد کرنے سے متعلق فائل پانچ نومبر کو وزارتِ داخلہ کو بھیج دی تھی۔
شنڈے نے بتایا کہ اس فائل پر انہوں نے سات نومبر کو دستخط کرنے کے بعد اسے آٹھ نومبر کو مہاراشٹر حکومت کے پاس بھیج دی تھی۔
شنڈے کے مطابق آٹھ نومبر کو ہی یہ فیصلہ کر لیا گیا تھا کہ قصاب کو اکیس نومبر کو پونے کی يروڈا جیل میں پھانسی دی جائے گی۔
شنڈے نے کہا کہ ’ہم نے اس معاملے کو خفیہ رکھا کیونکہ اسے خفیہ رکھنا ضروری تھا۔‘
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اجمل قصاب کو پھانسی دیے جانے کے بارے میں پہلے سے بتا دیا گیا تھا۔ بھارت کے وزیر خارجہ سلمان خورشید نے بھی کہا ہے کہ پاکستان کو اجمل قصاب کی پھانسی کے بارے میں پہلے سے ہی اطلاع بھیج دی گئی تھی۔
اس سے قبل بھارت کی حکومت نے کہا تھا کہ اگر پاکستان کی جانب سے لاش کی مطالبہ کیا جاتا تو وہ اجمل کی لاش انھیں سونپ دے گا۔
خفیہ رکھنا ضروری تھا
"ہم نے اس معاملے کو خفیہ رکھا کیونکہ اسے خفیہ رکھنا ضروری تھا"
وزیرِ داخلہ شندے
اس بارے میں مرکزی وزیر داخلہ سشیل کمار شنڈے سے جب پوچھا گیا تو ان کا جواب تھا ’اگر پاکستان کی حکومت قصاب کی لاش کا مطالبہ کرتی ہے تو ہم انہیں لاش سونپ دیں گے۔‘
واضح رہے کہ اس سے قبل ممبئی حملوں کے دوران پاکستان نے مارے جانے والے نو مبینہ شدت پسندوں کی لاشیں لینے سے انکار کر دیا تھا اور کئی دنوں کے انتظار کے بعد بھارتی حکومت نے انہیں بھارت میں ہی کسی نامعلوم مقام پر دفن کر دیا تھا۔
شنڈے کے مطابق پاکستان نے سرکاری طور پراس بارے میں بھیجا گیا خط قبول کرنے سے انکار کر دیا جس کے بعد انہیں فیکس کے ذریعے اطلاع بھیجی گئی تھی۔
دلی سے ہمارے نامہ نگار سنجوئے ماجومدار کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت کے اوپر دباؤ تھا کہ وہ اس شخص کو سزا دے جس نے ملک کی تاریخ کے مہلک ترین حملوں میں سے ایک کا ارتکاب کیا تھا۔
لیکن یہ تمام معاملہ جس سرعت اور رازداری سے نمٹایا گیا وہ بہت سے لوگوں کے لیے حیرت کا باعث بنا ہے۔
اس سے پہلے مہاراشٹر کے وزیر داخلہ آر آر پاٹل نے صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے اس خبر کی تصدیق کی تھی۔
پاٹل کے مطابق اجمل قصاب کو انیس نومبر کو ممبئی کے آرتھر روڈ جیل سے پونے کی يروڈا جیل لایا گیا تھا۔
مطلع کر دیا گیا تھا
پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے اس خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے نائب ہائی کمشنر نے پاکستان کو قصاب کی پھانسی کے بارے میں مطلع کر دیا تھا۔ انھوں نے کہا دہشت گردی کے بارے میں پاکستان کا موقف واضح ہے اور پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی مخالفت کرتا ہے۔
پاکستان ٹیلی ویژن کے مطابق پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے اس خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے نائب ہائی کمشنر نے پاکستان کو قصاب کی پھانسی کے بارے میں مطلع کر دیا تھا۔ انھوں نے کہا دہشت گردی کے بارے میں پاکستان کا موقف واضح ہے اور پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی مخالفت کرتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان دنیا میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عالمی برادری سے تعاون کر رہا ہے۔
بھارتی صدر نے مہاراشٹر کی وزارتِ داخلہ سے رحم کی درخواست کو مسترد کیے جانے کے تقریباً دو ماہ کے بعد یہ فیصلہ کیا تھا۔
سنہ دو ہزار آٹھ میں نومبر کی چھبیس تاریخ کو قصاب اپنے دس ساتھیوں کے ساتھ سمندر کے راستے ممبئی آئے تھے۔ ان لوگوں نے شیواجی ریلوے سٹیشن، تاج ہوٹل اور ایک یہودی ثقافتی مرکز سمیت شہر کے کئی علاقوں کو نشانہ بنایا تھا، جس میں 166 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
قصاب اور ان کے ایک ساتھی نے مرکزی ریلوے سٹیشن پر حملہ کر کے 52 افراد کو ہلاک کر ڈالا تھا۔پولیس اور این ایس جی کمانڈوز کی جوابی کارروائی میں اجمل قصاب کے نو ساتھی ہلاک ہوئے تھے جب کہ اجمل قصاب کو زندہ پکڑ لیاگیا تھا۔






























