
اجمل قصاب کی پھانسی کے بارے میں ذرائع ابلاغ کو پہلے سے کوئی اطلاع نہیں دی گئی تھی
بھارت نے منگل کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں سزائے موت کے خلاف ایک قرارداد کی مخالفت کی اور اس کے چند ہی گھنٹوں بعد اجمل قصاب کو پھانسی دے دی گئی۔
ممبئی پر حملوں کی چوتھی برسی سے چار روز پہلے اجمل قصاب کی پھانسی کی سیاسی اور علامتی اہمیت ہے۔
حکومت بظاہر یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ ہندوستان ’سافٹ’ سٹیٹ نہیں ہے اور ساتھ ہی اس نے بی جے پی سے اس کا سب سے بڑا ہتھیار بھی چھین لیا ہے۔
ریاست گجرات میں ریاستی اسمبلی کے انتخابات ہو رہے ہیں جہاں وزیر اعلیٰ نریندر مودی سرحد پار سے دہشت گردی کے سوال پر تقریباً روزانہ وفاقی حکومت کو نشانہ بناتے ہیں۔
اس کے علاوہ پارلیمان کا اجلاس شروع ہونے والا ہے جس میں حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ظاہر ہے کہ قصاب کی پھانسی کا اس کوشش پر تو کوئی براہ راست اثر نہیں پڑے گا لیکن بدعنوانی پر بحث سے کچھ وقت کے لیے توجہ ضرور ہٹے گی۔
پھانسی کے لیے اجمل قصاب کو پونے لے جانے اور وہیں دفنانے کی کیا وجہ ہوسکتی ہے؟
شاید یہ کہ وہاں پھانسی دینے کا انتظام تھا اور ممبئی کی آرتھر جیل روڈ میں نہیں۔ دوسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ 2008 کے حملہ آوروں کو ممبئی کی مسلم تنظیموں نے اپنے کسی قبرستان میں دفنانے سے انکار کر دیا تھا جس کی وجہ سے حملہ آوروں کی لاشیں مہینوں تک سرد خانےمیں رکھی رہی تھیں۔
شاید حکومت اس مرتبہ ایسی صورتِ حال سے بچنا چاہتی تھی۔
دلی میں پاکستان کے ہائی کمیشن نے ابھی کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے لیکن یہ بات انتہائی غیر معمولی معلوم ہوتی ہے کہ کوئی بھی ہائی کمیشن حکومت کا کوئی مراسلے لینے سے انکار کر سکتا ہے۔
پھانسی کی پوری کارروائی انتہائی صیغہ راز میں رکھی گئی اور سزائے موت پر عمل سے پہلے کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوئی، حالانکہ دو اخباروں میں بدھ کو یہ خبر ضرور چھپی تھی کہ شاید اجمل قصاب کو پونے منتقل کیا گیا ہے۔ لیکن وہ بھی اس خبر کی تصدیق کرنے میں ناکام رہے تھے۔
انڈین ایکسپریس نے بدھ ہی کو ’اعلیٰ ذرائع‘ کے حوالے سے یہ خبر دی تھی کہ صدر پرنب مکھرجی نے اجمل قصاب کی رحم کی درخواست مسترد کر دی ہے۔
گذشتہ دو تین دنوں میں دو ایسے واقعات ہوئے جن کی وجہ اب سمجھ میں آتی ہے۔
پہلے تو پاکستان کے وزیر داخلہ رحمٰن ملک کا دورہ ملتوی کیا گیا جو ویزا کے نئے نرم نظام کا باقاعدہ افتتاح کرنے کے لیے ہندوستان آنے والے تھے۔ پھر سلمان خورشید نے اپنا ایران کا دورہ ملتوی کر دیا۔
کہا جا رہا تھا کہ ہندوستان ممبئی پر حملوں کی چوتھی برسی سے تین چار روز پہلے رحمٰن ملک کی میزبانی نہیں کرنا چاہتا تھا اور سلمان خورشید وزیرِ خارجہ کا منصب سنبھالنے کے بعد سب سے پہلے ایران کا دورہ کرنے کے حق میں نہیں تھے۔
دوروں کی منسوخی کی وجہ پارلیمان کا سرمائی اجلاس بتائی گئی جو بائیس نومبر سے شروع ہو رہا ہے۔ لیکن اب لگتا ہے کہ یہ دورے اجمل قصاب کی پھانسی کی وجہ سے ہی ملتوی کیے گئے تھے۔
ہندوستان میں آخری مرتبہ 2004 میں دھننجے چیٹرچی مامی ایک شخص کو ریپ اور قتل کے کیس میں پھانسی دی گئی تھی۔ اور اب بھارتیہ جنتا پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ دو ہزار ایک میں پارلیمان پر حملے کے سلسلے میں افضل گرو کو بھی بلاتاخیر پھانسی دے دی جائے۔






























