گجرات:مسلم کش فسادات میں بائیس قصوروار

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
بھارت کی ریاست گجرات میں دوہزار دو کے مسلم کش فسادات کے دوران وسناگر کے دیپاڑا دروازہ کے پاس ہوئے قتل عام میں عدالت نے بائیس افراد کو قصوروار ٹھہرایا ہے۔
عدالت ان افراد کی سزاؤں کا تعین جلد ہی کرے گي۔
گودھرا ٹرین واقعے کے بعد ہوئے فسادات کے دوران دیپاڑا دروزاہ کے پاس ایک ہی خاندان کے گيارہ افراد کو قتل کر دیا گيا تھا۔
مہسانہ کی ایک مقامی عدالت نے قصورواروں کو قتل اور مجرمانہ سازش جیسے الزامات سے بری کر دیا ہے۔
اس کیس میں بی جے پی کے ایک مقامی رکن اسمبلی سمیت کل تراسی ملزم تھے جن میں سے اکسٹھ کو بری کر دیا گيا ہے۔
جن بائیس افراد کو قصوروار ٹھہرایا گيا ہے ان میں سے اکیس کو قتل کی کوشش کرنے اور فسادات پھیلانے کا مجرم بتایا گيا ہے جبکہ ایک پولیس انسپکٹر ایم کے پٹیل ڈیوٹی سے غفلت برتنے کے قصوروار قرار دیے گئے ہیں۔
جن افراد کو بری کیا گيا ہے اس میں سے دس پر سے الزامات واپس لے لیے گئے ہیں جبکہ باقی کو ناکافی ثبوتوں کا فائدہ ملا ہے۔
اٹھائیس فروری دو ہزار دو کو بلوائیوں کی ایک بھیڑ نے مہسانہ ضلع کے وسناگر قصبے میں دیپاڑادروازہ کے پاس ایک ہی خاندان کے گيارہ افراد کو قتل کر دیا تھا جس میں دو کم سن بچے اور ایک خاتون شامل تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کیس میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک مقامی رکن اسمبلی پرہلاد گوسا سمیت بعض خواتین بھی ملزم تھیں لیکن عدالت نے ناکافی ثبوتوں کی بنیاد پر انہیں بری کر دیا ہے۔
دیپاڑا دروازہ قتل عام گجرات فسادات کے ان نو کیسوں میں سے ایک ہے جس کی بھارتی سپریم کورٹ نے خصوصی تفتیشی ٹیم ایس آئی ٹی سے جانچ کے لیے کہا تھا۔
گجرات میں دو ہزار دو میں ہوئے فرقہ وارنہ فسادات میں تقریبا پندرہ سو افراد ہلاک ہوئے تھے جس میں سے بیشر مسلمان تھے۔







