بھارت: ہر گھنٹے سولہ خودکشیاں

خودکشی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنبھارت میں گذشتہ سال چودہ ہزار کسانوں کی موت کا سبب خودکشی رہی۔

بھارت میں خودکشی کی شرح سنگین صورت حال اختیار کرتی جا رہی ہے۔ بھارت کے نیشنل کرائم ریکارڈ بیور (این سی آر بی) نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ملک میں ہر گھنٹے میں کم سے کم سولہ افراد کی موت خودکشی کے سبب ہوتی ہے۔

این سی آر بی کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال سنہ دو ہزار گیارہ میں ایک لاکھ پینتیس ہزار لوگوں کی موت خود کشی کے سبب ہوئی۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ زیادہ تر خودکشیوں کے اسباب خانگی مسائل، ناجائز حمل اور کیريئر ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سنہ دو ہزار گیارہ میں طلاق کے سبب خودکشیوں میں چوّن فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ ناجائز حمل کے سبب اموات میں بیس فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

اسی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ سال چودہ ہزار سے زیادہ کسانوں کی موت کا سبب بھی خودکشی رہی ہے۔ بہرحال یہ سنہ دو ہزار دس کے مقابلے کم ہے۔

اس کا سبب بتاتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت کی ریاست چھتیس گڑھ میں دوہزار گیارہ میں خودکشی کے کسی واقعے کو نہیں دکھایا گیا ہے جبکہ اس سے قبل دوہزار دس میں وہاں ایک ہزار چارسو بارہ کسانوں کی خودکشی سے موت درج کی گئی تھی۔

اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھارت میں خودکشی کرنے والوں میں سے ستّر فیصد افراد شادی شدہ تھے اور اس معاملے میں راجستھان ایسی ریاست ہے جہاں سب سے زیادہ کنبوں نے ایک ساتھ خودکشی کی ہے۔

اس سے قبل ایک بین الاقوامی مطالعے میں کہا گیا تھا کہ بھارت میں ہر برس ایک لاکھ ستاسی ہزار افراد خودکشی سے موت کا شکار ہوتے ہیں اور خودکشی بھارت میں ٹریفک حادثوں میں ہلاکتوں کے بعد موت کا دوسرا سب سے بڑا سبب بن گئی ہے۔