کشمیر رپورٹ: خصوصی درجہ برقرار رکھا جائے

مذاکراتکار

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشناس رپورٹ میں بہت سی ایسی سفارشات کی ہیں جن سے انکے خیال میں جموں و کشمیر میں حالات کو معمول پر لایا جاسکتا ہے

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیرکا حل تجویزکرنے کے لیے بھارتی حکومت کے مقرر کردہ مذاکرات کاروں کی کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ ریاست کو دستور ہند کے تحت حاصل خصوصی درجہ برقرار رکھا جائے اور اس کی خود مختاری کو ممکنہ طور پر زک پہنچانے والے تمام وفاقی قوانین پر نظرثانی کی جائے۔

وفاقی قوانین اور آئینی ترامیم پر نظر ثانی کے لیے ایک آئینی کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز دی گئی ہے۔ یہ کمیٹی انیس سو باون کے بعد وضع کیے جانے والےتمام قوانین پر نظرثانی کرے گی تاکہ اس بات کا تعین کیا جا سکے کہ آیا ان قوانین اور ترامیم سے ریاست کی خود مختاری متاثر ہوئی ہے اور اگر ہاں تو کس حد تک۔

رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ بھارتی پارلیمان اس وقت تک کشمیر کے لیے کوئی قانون نہ بنائے جب تک اس کا تعلق ملک کی داخلی سلامتی، دفاع یا کلیدی اقتصادی مفادات سے نہ ہو (خاص طور پر آبی وسائل اور توانائی کے شعبے میں)۔

سینیئر صحافی دلیپ پڈگاؤنکر، ماہر تعلیم رادھا کمار اور سابق سرکاری افسر ایم ایم انصاری نے اپنی رپورٹ میں بہت سی ایسی سفارشات تیار کی ہیں جن سے ان کے خیال میں جموں و کشمیر میں حالات کو معمول پر لایا جاسکتا ہے۔ بنیادی طور پر وہ ریاست کو زیادہ سے زیادہ خود مختاری دینے کے حق میں ہیں۔

کمیٹی نے چند ماہ قبل اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کی تھی جسے وزارت داخلہ نے آج اپنی ویب سائٹ پر جاری کیا ہے۔ مذاکراتکاروں کا کہنا ہے کہ مسئلہ کا حل صرف سیاسی مذاکرات کے ذریعہ ہی ممکن ہے جس میں علیحدگی پسند حریت کانفرنس کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔

’جیسے وزیر اعظم من موہن سنگھ بھی کہہ چکے ہیں، نصب العین یہ ہے کہ لائن آف کنٹرول کو غیر موزوں بنا دیا جائے۔۔۔ اور مسئلہ کشمیر کے حل کی تلاش بھارت اور پاکستان کے درمیان مذاکرات کی محتاج نہ رہے، اگر جموں و کشمیر میں فریق کسی سمجھوتے پر پہنچنے کے لیے تیار ہیں تو پاکستان کے لیے بعد میں بات چیت میں شامل ہونے کا راستہ کھلا رکھا جاسکتا ہے۔‘

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’وفاقی حکومت اور حریت کانفرنس کے درمیان مذاکرات جتنا جلدی ممکن ہو، دوبارہ شروع کیے جانے چاہئیں اور وفاقی قوانین پر نظرثانی اور حریت سے بات چیت کے دوران جو نکات سامنے آئیں ان پر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور حکومت پاکستان سے مذاکرات کیے جانے چاہئیں۔‘

کمیٹی نے کشمیر میں مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں سے بات چیت کی بنیاد پر اپنی رپورٹ تیار کی ہے لیکن علیحدگی پسند رہنماؤں نے اس سے ملنے سے انکار کر دیا تھا۔ مذاکرات کاروں نے انسانی حقوق کی پاسداری، ’اور سنگ بازوں اور ان سیاسی رہنماؤں کی فوری رہائی کا بھی مطالبہ کیا ہے جن کے خلاف سنگین الزامات نہیں ہیں۔‘

مذاکراتکاروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے’ جو سیاسی حل تجویز کیا ہے وہ وادی کشمیر کے عوام کے اس تاثر کو پوری طرح مد نظر رکھتے ہوئے کیا ہے کہ ان کے ساتھ زیادتی کی جارہی ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ مخلتلف حلقوں سے بات چیت کرنے کے بعد کمیٹی اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ وادی کےعوام عزت کی زندگی گزارنا چاہتے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ انہیں ایک موثر حکومت ملے اور ان کے حقوق کا احترام کیا جائے۔

رپورٹ جاری کرنے کے فوراً بعد وزارت داخلہ نے ایک بیان میں کہا کہ یہ مذاکرات کاروں کے نظریات ہیں جن پر حکومت نے ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے لیکن وہ ان پر بحث کے حق میں ہے۔

کمیٹی نے ریاست کے گورنر کے تقرر کے لیے بھی طریقہ کار تجویز کیا ہے۔ اس کا کہنا ہےکہ ریاستی حکومت حزب اختلاف سے صلاح مشورے کےبعد تین ناموں کی فہرست صدر جمہوریہ کو بھیجے لیکن ضرورت محسوس کیے جانے پر صدر کی جانب سے مزید نام مانگے جاسکتے ہیں۔