سچن تندلکر کو بھارت رتن نہیں دینا چاہیے‘

جسٹس کاٹجو
،تصویر کا کیپشنجسٹس کاٹجو کے بیان کا ایک طرف جہاں بعض حلقوں نے خیرمقدم کیا وہیں ٹی وی چینلوں کے بعض مالکان نے اس پر تنقید بھی کی

انڈیا میں پریس کاؤنسل کے چئیرمین جسٹس مارکینڈے کاٹجو نے سچن تندلکر کو بھارت رتن اعزاز دیئے جانے کے فیصلے پر سوال اٹھایا ہے۔

کولکتہ میں ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فلمی ہستیوں اور کرکٹ کھلاڑیوں کو بھارت رتن دینے کا مطالبہ اور تجویز غلط ہے۔

جسٹس کاٹجو کا کہنا تھا کہ ’بعض لوگ کہتے ہیں کہ سچن تندلکر اور سوربھ گانگولی کو بھارت رتن دیا جانا چاہیے۔ میں کہتا ہوں کہ ان میں سے کسی کو یہ اعزاز نہیں دینا چاہیے۔‘

جسٹس کاٹجو نے اس سے پہلے کہا تھا کہ بھارت میں میڈیا بے لگام ہو رہا ہے اور اسے اپنی حد میں رہنا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی تجویز پیش کی تھی کہ بھارت میں میڈیا کے لیے بعض ایسے ضوابط بنائے جائیں جس کے تحت میڈیا پر شائع ہونے والے مواد پر نگرانی رکھی جاسکے۔

جسٹس کاٹجو کے اس بیان کا ایک طرف جہاں بعض حلقوں نے خیرمقدم کیا وہیں ٹی وی چینلوں کے بعض مالکان نے تنقید بھی کی تھی۔

واضح رہے کہ جسٹس کاٹجو سے پہلے قبل شیو سینا کے سربراہ بال ٹھاکرے اور سماجی کارکن انا ہزارے نے بھی اسی مسئلے پر کانگریس پارٹی اور سچن تندولکر پر تنقید کی تھی۔

صحافیوں کے ایک سوال کے جواب میں بال ٹھاکرے نے کانگریس پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’یہ پارٹی کا سب سےگندا کھیل ہے، حقیقی ڈرٹی پکچر یہی ہے۔‘

گزشتہ ماہ صدر پرتیبھا پاٹل نے سچن تندولکر کو راجیہ سبھا کے لیے نامزد کیا تھا۔ انتالیس سالہ تندولکر کھیل کی دنیا کی پہلی شخصیت ہیں جو راجیہ سبھا کے رکن بنیں گے۔

بھارتی قانون کے مطابق پارلیمان کی چند نشستیں ملک کی ان سرکردہ شخصیات کے لیے مخصوص ہیں جنہوں نے ملک کی خدمت کے لیے کارہائے نمایاں انجام دیے ہوں۔

اس فہرست میں، ادیب، فنکار، سماجی کارکنان اور کھلاڑیوں جیسی شخصیات کے نام شامل ہوتے ہیں جنہیں صدر نامزد کرتا ہے۔