
مسلم مخالف فسادات کے لیے مودی پر نکتہ چینی ہوتی رہی ہے
امریکہ نے کہا ہے کہ بھارتی ریاست گجرات کے وزیراعلی نریندر مودی کو ویزا جاری کرنے سے متعلق اس کی پرانی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔
امریکہ نے دو ہزار پانچ میں مسٹر مودی کو ویزا نہ دینے کا فیصلہ کیا تھا اور تب سے اس کی یہی پالیسی رہی ہے۔
ریاست گجرات میں دو ہزار دو کے مسلم مخالف فسادات کے تعلق سے مودی پر طرح طرح کے الزام لگتے رہے ہیں اس کے لیے ان پر بھارت میں بھی کئی حلقوں کی طرف سے شدید نکتہ چینی کا سامنا رہا ہے۔
حال ہی میں امریکی قانون ساز ادارہ کانگریس کے ایک رکن جو واش نے وزیر خارجہ ہلری کلنٹن کو ایک خط تحریر کرکے یہ مطالبہ کیا تھا کہ دو ہزار پانچ میں نریندر مودی کو ویزا نہ جاری کرنے کا جو فیصلہ کیا گيا تھا اسے تبدیل کیا جائے۔
اس سے متعلق ایک سوال کے جواب میں وزارت خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نولانڈ نے کہا ’ویزا جاری کرنے سے متعلق ہماری پوزیشن میں کوئی بھی تبدیلی نہیں ہوئی ہے‘۔
کانگریس کے رکن نے تقریبا دو ہفتے قبل یہ خط تحریر کیا تھا۔ محترمہ نولانڈ نے کہا ’اگر ہم کوئی جواب دیں گے تو وہ مسلمہ طریقے کے مطابق ہی ہوگا‘۔
امریکہ میں بھارتی مسلمانوں کی برادری نے وزارت خارجہ سے اپیل کی ہے کہ مودی کو ویزا جاری کرنے سے متعلق وہ اپنی پالیسی میں کوئي تبدیلی نہ کرے۔
امریکہ میں ریاست گجرات کے بھی بہت سے لوگ آباد ہیں اور ان کی اپنی تنظیمیں ہیں جو مودی کو آنے کی تقریبا ہر برس دعوت دیتے رہتے ہیں لیکن نریندر مودی کے پاس امریکہ کا ویزا نہیں ہے۔ مودی ایسے مواقع پر ویڈیو لنک کے ذریعے تقریب سے خطاب کرتے ہیں ۔






























