’لوک پال بل اب بجٹ اجلاس میں پیش ہوگا‘

راجیہ سبھا میں حکومتی یو پی اے اتحاد کے ترانوے ممبران ہیں جبکہ اسے ستائیس دیگر ارکان کی حمایت حاصل ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنراجیہ سبھا میں حکومتی یو پی اے اتحاد کے ترانوے ممبران ہیں جبکہ اسے ستائیس دیگر ارکان کی حمایت حاصل ہے

بھارت میں پارلیمانی امور کے مرکزی وزیر پون بنسل نے کہا ہے کہ لوک پال بل کو بجٹ سیشن میں دوبارہ راجیہ سبھا میں پیش کیا جائے گا۔

جمعہ کو دلّی میں ذرائع ابلاغ سے بات چیت کے دوران پون بنسل کا کہنا تھا کہ راجیہ سبھا میں مختلف جماعتوں نے بل میں جن ترامیم کا مشورہ دیا ہے حکومت ان پر بحث کرے گی اور دیکھے گی کہ اس میں کن پر عملدرآمد ممکن ہے۔

پارلیمانی امور کے وزیر نے کہا کہ جمعرات کو ریاستی اسمبلی میں کل ایک سو ستاسی ترامیم کی تجاویز دی گئیں جن میں سے کئی ایک دوسرے کے متضاد تھیں اور جنہیں اگر منظور کیا جاتا تو یہ قانون ’ایک مذاق‘ بن جاتا۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ ان ترامیم کو ماننے کا مطلب ہوتا کہ بل کو پھر سے لوک سبھا میں بھیجنا پڑتا جس کا مطلب تھا کہ پورا عمل دوبارہ سے شروع کیا جائے۔

ادھر حزب اختلاف کی اہم جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر نتن گڈکری نے کہا کہ جس طرح سے حکومت کو اس معاملے میں شکست کا منہ دیکھنا پڑا ہے اس کے بعد متحدہ ترقی پسند اتحاد کو اقتدار میں بنے رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

نتن گڈکری نے کہا کہ ’اخلاقیات کی بنیاد پر منموہن سنگھ اور اس حکومت کو فوری طور پر استعفٰی دینا اور ملک کو آزاد کرنا چاہیے‘۔

بی جے پی کے رہنما کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی موجودگی میں ایوان میں جس طرح کی حرکت ہوئی ’وہ پارلیمانی جمہوریت کو داغدار کرنے والی تھی‘۔ ان کا اشارہ اس واقعہ کی طرف تھا جس میں راشٹریہ جنتا دل کے ایک رکن پارلیمنٹ نے بل کے مسودے کو پھاڑ کر پھینک دیا تھا۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے پون بنسل کا کہنا تھا کہ ستائیس اگست کو پارلیمنٹ نے جو قرارداد پاس کی تھی اس میں واضح کر دیا گیا تھا کہ جو قانون بنے گا اس میں ریاستوں میں بھی محتسب کا بھی نظام ہوگا لیکن اب بی جے پی اس بات سے پیچھے ہٹ رہی ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کے بار بار کہنے کے باوجود اپوزیشن جماعتوں نے راجیہ سبھا میں بحث اٹھائیس دسمبر سے شروع کرنے سے انکار کیا اور بل پر بحث جمعرات کو ہی شروع ہو پائی، ارکان رات گئے تک بولتے رہے ، جس کی وجہ سے کسی بھی دوسری بحث کے لیے، یعنی ترامیم وغیرہ پر بات چیت کے لیے کوئی وقت ہی نہیں بچا۔