منہدم عبادتگاہیں، مودی کی سرزنش

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
بھارت کی ریاست گجرات میں ہائی کورٹ نے دس برس قبل ہونے والے فسادات کے دوران مذہبی عبادتگاہوں کے تحفظ میں ناکامی کے لیے گجرات حکومت کی سرزنش کی ہے ۔
عدالت عالیہ نے ریاستی حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ تمام عبادتگاہوں، مزاروں اور مقبروں کی مرمت کے لیے معاوضہ ادا کرے ۔
گجرات ہائی کورٹ کی دو ججوں کی ایک بنچ نے 2002 کے فسادات کے دوران مذہبی مقامات کے انہدام سے متعلق ایک درخواست کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت شہریوں اور عبادت گاہوں کا تحفط کرنے میں ناکام رہی ہے ۔
گجرات کی اسلامی ریلیف کمیٹی نے فسادات کے بعد 2003 میں عدالت میں یہ عرضی داخل کی تھی کہ کہ وہ فسادات کے دوران تباہ ہونے والی عبادتگاہوں کی مرمت کے لیے معاوضہ ادا کرے ۔
عرضی گذار کے وکیل ایم ٹی ایم حکیم نے عدالت کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ’ہماری دلیل یہ تھی کہ منہدم عبادتگاہوں کے لیے معاوضہ دیا جائے کیونگہ عبادت گاہیں تعمیر کرنے کی ذمہ داری مختلف مذہبی برادریوں کی ہے لیکن ان کے تحفظ کی ذمہ داری حکومت کی ہوتی ہے جس میں وہ ناکام رہی‘۔
مسٹر حکیم نے کہا کہ ’ یہ شاید پہلی بار ہے جب کسی عدالت نے 2002 کے فسادات کے دوران بے عملی اور لاپرواہی کے لیے ریاستی حکوت کو ذمےدارقرار دیا ہے‘۔
عدالت عالیہ نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ حکومت اپنی ذمہ داریوں سے دامن نہیں بچا سکتی ۔ عدالت نے کہا کہ حکومت نے فسادات کو روکنے میں لاپرواہی اور بے عملی کا ارتکاب کیا جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر عبادتگاہون کو نقصان پہنچایا گیا ۔
عدالت نے کہا کہ جب حکومت نے مکانوں اور تجارتی مقامات کی تباہی پر معاوضہ دیا ہے تو اسے مذہبی عبادت گاہوں کے انہدام کے لیے بھی معاوضہ ادا کرنا چاہیئے ۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دلی میں کانگریس کی رہنما امبیکا سونی نے اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’گجرات کی حکومت نے صرف بے عملی ہی نہیں دکھائی بلکہ اس نے تفریق بھی برتی ۔ اس نے تعصب کے ساتھ کام کیا ہے‘۔
ریاستی حکومت نے معاوضہ ادا کرنے کی اس بنیاد پر مخالفت کی تھی کہ اس سے آئین کی دفعہ 27 کے تحت بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی جس میں کہا گیا ہے کہ مذہب کے فروغ کے لیے ٹیکس کی رقم کا استعمال نہیں کیا جا سکتا ۔

،تصویر کا ذریعہReuters
حکومت کی یہ دلیل بھی تھی کہ ایسی کوئی پالیسی نہیں ہے جس کے تحت فسادات کے دوران تباہ ہونے والی عبادت گاہوں کی مرمت اور تعمیر نو کے لیے معاوضہ دیا جا سکے ۔
گجرات میں فروری 2002 میں گودھرا میں ایک ٹرین کا ڈبہ جلائے جانے سے 59 ہندو زائرین ہلاک ہو گۓ تھے ۔ اس واقعے کے بعد پوری ریاست میں فسادات پھوٹ پڑے تھے جن میں سرکاری طور پر گیارہ سو سے زیادہ لوگ مارے گئے تھے جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی ۔
فسادات کے دوران پانچ سو سے زیادہ مذہبی مقامات کو بھی نقصان پہنچا تھا ۔ ان میں کئی تاریخی نوعیت کی درگاہیں اور مقبرے بھی شامل تھے ۔
عدالت عالیہ نے ریاست کے سبھی اضلاع میں ضلعی ججوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے اضلاع میں تباہ ہونے والی عبادت گاہون کی تفصیلات حاصل کریں اور ان کے معاوضے کی درخواست پر فیصلہ کریں ۔
انہیں اپنے فیصلے کی تفصیلات چھ مہینے کے اندر عدالت عالیہ میں پیش کرنی ہے ۔ریاستی حکومت کو اپنا جواب دینے کے لیے ایک مہینے کا وقت دیاگیا ہے ۔







