’ایماندار حکومت بنانے کے لیے کام کریں گے‘

بھارت کے وزیر اعظم من موہن سنگھ نے کہا ہے کہ ملک میں بدعنوانی کے سوال پر تشویش بڑھی ہے اور ’وہ خود ذاتی طور پر عوام کو ایک موثر اور ایماندار حکومت' فراہم کرنے کے لیے کام کریں گے۔
نئے سال کے موقع پر قوم کے نام اپنے غیر معمولی طور پر تفصیلی پیغام میں وزیر اعظم نے اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ بدعنوانی کی روک تھام کے لیے حکومت کا پیش کردہ لوک پال بل پارلیمان کے ایوان بالا یا راجیہ سبھا میں منظور نہیں کرایا جاسکا۔
من موہن سنگھ کی حکومت کو گزشتہ تقریباً ڈیڑھ برس میں بدعنوانی کے کئی سنگین الزامات کا سامنا رہا ہے اور چند ماہ قبل وزیر اعظم نے خود یہ اعتراف کیا تھا کہ آزادی کے بعد سے ان کی حکومت کو سب سے بدعنوان تصور کیا جاتا ہے۔
راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کی سخت مخالفت کے باوجود لوک پال بل پر بحث بیچ میں ہی ختم کر دی گئی تھی کیونکہ ووٹنگ کی صورت میں حکومت کو یقینی شکست کا سامنا تھا۔ اس وقت ایوان میں وزیر اعظم اور وزیر خزانہ دونوں موجود تھے اور ان کی خاموشی پر زیادہ تر سیاسی حلقوں نے شخت تنقید کی ہے۔
اس کے بعد سے وزیر اعظم کی جانب سے یہ پہلا بیان ہے جس میں انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت ایک موثر لوک پال بل منظور کرانے کے وعدے پر قائم ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اب یہ بل پارلیمان کے بجٹ اجلاس میں لایا جائے گا جو فروری میں شورع ہوگا۔
لیکن حزب اختلاف اور خود حکومت کی اتحادی جماعتوں کو بل کے موجودہ مسودے پر اعتراض ہے کیونکہ ان کا خیال ہے کہ اس سے آئین کا وفاقی کردار کمزور ہوگا اور اس میں مرکزی تفتیشی بیورو کو حکومت کے کنٹرول سے آزاد کرنے کے لیے کوئی تدبیر نہیں کی گئی ہے۔
وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ ملک کو پانچ بڑے چینلجوں کا سامنا ہے جس میں غربت، بھوک اور ناخواندگی کا خاتمہ ، اقتصادی سکیورٹی، توانائی، ماحولیات اور قومی سلامتی کے مسائل شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک اقتصادی مسائل سے گزر رہا ہے اور معیشت کو واپس پٹری پر لانے کے لیے ہمہ جہت حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی ضمن میں انہوں نے کہا کہ’ بدعنوانی کے نئے طریقے سامنے آئے ہیں اور کاروبار کو فروغ دینے کے لیے لازمی ہے کہ بدعنوانی کا خاتمہ کیا جائے۔۔۔اور لوک پال اور لوک آیوکت (جو ریاستوں میں قائم کرنے کی تجویز ہے) مسئلہ کے حل کا اہم حصہ ہیں۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وزیر اعظم نے اپنے پیغام میں ان دوسرے قوانین کا بھی ذکر کیا ہے جس کا مطالبہ سول سوسائٹی کے نمائندے کر رہے ہیں جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ بنیادی طور پر سماجی کارکن انا ہزارے اور ان کے ساتھیوں کی تنقید کا جواب دے رہے ہیں۔
’ ان قوانین کا اثر سامنے آنے میں وقت لگے لہذا ہمیں صبر سے کام لینا چاہیے۔۔۔میرے خیال میں ان اقدامات سے بڑے پیمانے پر بتہری آئے گی۔'







