لوک پال بل پر پارلیمان میں بحث جاری

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
بھارت میں بدعنوانی کے خاتمے کے لیے حکومت کے پیش کردہ لوک پال بل کا وزیراعظم منموہن سنگھ نے جم کر دفاع کیا ہے اور اپیل کی ہے کہ اسے ایوان منظور کرلے۔
حکمراں اور اپوزیشن جماعت کے کئي رہنماؤں کے خطاب کے بعد منموہن سنگھ نے اپنے خطاب میں کہا کہ بدعنوانی ایک اہم مسئلہ ہے اور ان کی حکومت لوک پال ہی نہیں بلکہ دوسرے ذرائع سے بھی اس سے لڑنے کے لیے تیار ہے۔
منموہن سنگھ نے بل کی مختلف متنازعہ شقوں پر تفصیل سے بات کرتے ہوئے کہا ’ہم کوئی ایسا ادارہ قائم نہیں کرنا چاہتے جس سے آئین یا پارلیمانی جمہوریت کے کسی پہلو پر آنچ آئے۔ اس پر ملک کے عوام کی نگاہیں لگي ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ ایوان اسے منظور کر لے۔‘
مرکزی تفتیشی ادارہ سی بی آئی سے متعلق بھی انہوں نے حکومت کے موقف کو واضح کیا اور کہا کہ ’ آخر یہ ادارہ بھی حکومت کا ہی ایک ادارہ ہے تو اسے کام کرنے کی مکمل آزادی تو ہونی چاہیے لیکن اسے حکومت کے تئیں جوابدہ بنانا بھی ضروری ہے۔‘
اس سے پہلے حکومت کے اس موجودہ بل کو مسترد کرتے ہوئے حزب اختلاف بھارتیہ جنتا پارٹی نے کہا ہے کہ مجوزہ قانون سے دستور ہند کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔
لوک پال بل پر پارلیمان کے ایوان زیریں یا لوک سبھا میں بحث کرائی جارہی ہے جس کے اختتام پر ووٹنگ ہوگی لیکن ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ بحث منگل کو ہی پوری ہوجائے گی یا بدھ کو بھی جاری رہے گی۔
لوک سبھا میں بحث کے دوران حزب اختلاف کی لیڈر سشما سواراج نے کہا کہ ’یہ بل خامیوں سے بھرا ہوا ہے اور حکو مت کو اسے واپس لے لینا چاہیے۔‘
بی جے پی کا بنیادی اعتراض بل کی تین شقوں پر ہے جن کے تحت لوک پال بل میں اقلیتوں کے لیے ریزرویشن کی تجویز رکھی گئی ہے، تفتیشی ادارے سی بی آئی کو جزوی طور پر لوک پال کے دائرہ اختیار میں شامل کیا گیا ہے اور بقول سشما سواراج ریاستوں کے لیے یہ لازمی کیا گیا ہے کہ وہ بھی اس قانون کو اختیار کریں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی جے پی کا الزام ہے کہ ملک کا آئین مذہب کی بنیاد پر ریزرویش کی اجازت نہیں دیتا اور ریاستوں کو یہ قانون اختیار کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اس سے ملک کا وفاقی کردار کو زک پہنچے گی۔
لیکن وفاقی وزیر کپل سبل نے کہا کہ ریزرویشن سے متعلق آئین کی جن شقوں کا حزب اختلاف نے ذکر کیا ہے ان کا اطلاق لوک پال کے معاملے میں نہیں ہوتا اور اس بارے میں حتمی فیصلہ عدالتیں ہی کر سکتی ہیں۔
کپل سبّل نے اپوزیشن جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی پر سخت نکتہ چینی کی ہے اور کہا کہ بی جے پی ایسی سازش میں ملوث ہو رہی ہے کہ مضبوط لوک پال منظور نہ ہونے پائے۔ انہو نے اس بل کی مختلف شقوں کی وضاحت کی اور کہا کہ حکومت نے جو بل پیش کیا ہے وہ مضبوط ہے لیکن وہ لوک پال بل جیسے ادارہ کو جوابدہ بنانا بھی ضروری سمجھتی ہے۔
ان کا الزام تھا کہ بی جے پی ملک کی ’سولہ کروڑ اقلیتوں کو لوک پال میں نمائندگی سے محروم رکھنا چاہتی ہے۔۔۔اور بل کو منظور نہیں ہونے دینا چاہتی۔‘
بحث کے دوران ہنگامے اور کارروائی کے آغاز سے ہی یہ بات صاف ہوگئی تھی کہ اس قانون کو اتفاق رائے سےمنظور نہیں کرایا جاسکے گا کیونکہ بی جے پی اور بائیں بازو کی جماعتیں بل کے مسودے سے مطمئن نہیں ہیں۔ انہوں نے مجوزہ بل میں پچاس سے زیادہ ترامیم کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ قانون سول سوسائٹی کے نمائندوں کی تحریک کے نتیجے میں پارلیمان میں پیش کیا گیا ہے لیکن سماجی کارکن انا ہزارے اور ان کے ساتھیوں نے بھی اسے کمزور بتاکر مسترد کردیا ہے۔
سول سوسائٹی کے نمائندے چاہتے ہیں کہ لوک پال کے تقرر میں حکومت کا عمل دخل نہ ہو، نچلی سطح کے تمام سرکاری ملازمین بھی اس کے دائرہ اختیار میں شامل ہوں اور سی بی آئی کو لوک پال کے ماتحت لایا جائے تاکہ وہ حکومت کے اثر و رسوخ سے آزاد ہوکر تفتیش کر سکے۔
لیکن حکومت کے علاوہ سماجوادی پارٹی اور لالو پرساد یادو کی راشٹریہ جنتا دل کو موقف ہے کہ لوک پال اور حکومت کے اختیارات میں توازن ضروری ہے تاکہ ایک ایسا ادارہ نہ قائم ہوجائے جو کسی کو جوابدہ نہ ہو۔
بحث کا آغاز پارلیمانی امور کے وزیر نارائن سوامی نے کیا تھا جنہوں نے بل کا جذباتی انداز میں دفاع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’جو افراد اسے کمزور بل قرار دے رہے ہیں انہوں نے اسے پڑھا نہیں ہے۔ اس میں تمام طرح کے چیک اینڈ بیلنسز کا خیال رکھا گيا ہے اور بہت سے لوگ اس پر محض سیاست کر رہے ہیں‘۔
بحث کے دوران کئی بار ہنگامہ آرائی بھی دیکھنے کو ملی اور ارکان نے دوران بحث احتجاج بھی کیا۔
لوک پال بل پر بحث کے لیے پارلیمان کے سرمائی اجلاس میں تین دن کے لیے توسیع کی گئی ہے۔ ایوان میں اس پر بحث کے لیے سبھی جماعتوں کے سینیئر رہنما موجود ہیں۔
پیر کو ہی بی جے پی سمیت بائیں بازو کی جماعتوں نے لوک پال بل میں ترمیم کے لیے ایوان کو نوٹس دیے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ بی جے پی لوک پال کے مسودے میں کم از کم سینتیس ترامیم کی تجاویز دے گی وہیں بائیں بازو کی جماعتیں گیارہ ترامیم چاہتی ہیں۔
آئینی ماہرین کا ماننا ہے کہ لوک سبھا میں حکومتی اکثریت کی وجہ سے لوک پال بل کا منظور ہونا مشکل نہیں لیکن راجیہ سبھا میں حکومت کے لیے مشکلات کھڑی ہو سکتی ہیں کیونکہ اس کے لیے حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی حمایت ضروری ہوگی۔







