’عوام کے سامنے حکومت کا پردہ فاش‘

،تصویر کا ذریعہPTI
بھارت میں بدعنوانی کے خلاف سخت کارروائی کی علامت بن جانے والا لوک پال بل کو راجیہ سبھا میں منظوری نہ ملنے پر حزب اختلاف کی جماعتوں نے حکومت پر سخت تنقید کی ہے۔
ادھر حکومت نے الزام عائد کیا ہے کہ حزب اختلاف کی جماعتوں نے اس سلسلے میں حکومت کا ساتھ نہیں دیا ہے۔
منگل کو ایوانِ زیریں سے منظوری کے بعد لوک پال بل جمعرات کو ایوانِ بالا یعنی راجیہ سبھا میں پیش کیا گیا تھا۔
حکمراں اتحاد کو راجیہ سبھا میں اکثریت حاصل نہیں ہے اور جب حکومت کی اتحادی جماعت ترنمول کانگریس کو اپنے اعتراضات ترک کرنے پر مائل کرنے کی تمام کوششیں ناکام ہوگئیں تو حکومت نے بل پر ووٹنگ نہ کرانے کا فیصلہ کیا اور ایوان کی کارروائی نصف رات کے کچھ بعد غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی گئی۔
ترنمول کانگریس نے حکومت کے فیصلے کو ’جمہوریت کے قتل‘ سے تعبیر کیا جبکہ راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے لیڈر ارون جیٹلی نے کہا کہ حکومت اپنی ذمہ داری سے بھاگ رہی ہے اور اسے اب ’ایک بھی منٹ اقتدار میں رہنے کا حق حاصل نہیں ہے‘۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’سب لوگوں کے سامنے حکومت کا پردہ فاش ہوگیا ہے‘۔
وہیں بائیں بازوں کی جماعت مارکسی کیمونسٹ پارٹی کے لیڈر سیتا رام یچوری کا کہنا تھا کہ ’گزشتہ روز پارلیمان میں جو بھی ہوا وہ حکومت کی اخلاقی شکست ہے۔ ہماری پارٹی کا ماننا ہے کہ لوک پال بل جلد سے جلد نافذ کرنا چاہیے اور حکومت کو پارلیمان میں یہ بل واپس لانا چاہیے‘۔
حزب اختلاف کی اہم جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی لیڈر سشما سوراج کا کہنا تھا ’گزشتہ رات جمہوریت کی کالی رات تھی۔ راجیہ سبھا میں جمہوریت کی بے عزتی ہوئی ہے۔ پارلیمان میں ہنگامے کے دوران وزير اعظم منموہن سنگھ اور وزیر خزانہ پرنب مکھرجی چپ چاپ بیٹھے رہے‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے حکومت کی تنقید پر کانگریس کے لیڈر اور مرکزی وزیر قانون سلمان خورشید نے کہا ’حزب اختلاف خاص طور سے بھارتیہ جنتا پارٹی چاہتی تھی کی لوک پال بل کے اہم وجود کو ختم کر دیا جائے۔ انہوں نے جان بوجھ کر بل میں تبدیلیاں کی‘۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت اپنی ذمہ داری سے بھاگ نہیں رہی ہے۔’اگر ایسا ہوتا تو ہم بارہ بجے تک پارلیمان میں نہیں بیٹھتے‘۔







