ہارورڈ یونیورسٹی: سوامی کا نصاب ہٹانے کا فیصلہ

امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی نے بھارت کے ہندو نواز رہنما اور اقتصادیات کے ماہر سبرامنیم سوامی کی سوچ کو قابل مذمت قرار دیتے ہوئے ان موضوعات کو یونیورسٹی کے نصاب سے ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جس کا وہ درس دیا کرتے تھے۔
سبرامنیم سوامی نے رواں برس مسلمانوں کے خلاف ایک مضمون لکھا تھا اور اسی کے تناظر میں یونیورسٹی نے یہ فیصلہ کیا ہے۔
بدھ کے روز ہارورڈ یونیورسٹی میں اس معاملے پر ایک ملاقات کے بعد اکثریت رائے سے فیصلہ یہ کیا گيا ہے۔
سبرامنیم سوامی ہر برس گرمیوں میں اقتصادیات کے مضوعات پر ہارورڈ میں درس دیا کرتے تھے۔ آئندہ برس کے نصاب کے تعین کے لیے میٹنگ کے دوران پروفیسر ڈائنا اک نے جب یہ قرار دادا پیش کی تو اس پر اساتذہ اور دیگر سٹاف کے درمیان بحث چھڑ گئی۔
پروفیسر ڈائنا کا کہنا تھا کہ ’سبرامنیم سوامی نے ایک خاص مذہب کے تمام افراد کو نیچا دکھا کر ان کی عبادت گاہوں پر حملے کی وکالت کر کے ہر طرح کی حدیں پار کردی ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہارورڈ یونیورسٹی کی یہ اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنا رشتہ کسی بھی ایسے فرد سے نا جوڑے جو کسی بھی اقلیتی طبقے کے خلاف نفرت پھیلانے کا کام کرتا ہو۔‘ بیشتر اساتذہ اور یونیورسٹی کے سٹاف نے اس فیصلے کی حمایت کی ہے۔
سبرامنیم سوامی نے اس خبر پر افسوس ظاہر کیا ہے اور کہا کہ یونیورسٹی کو اس طرح کا فیصلہ کرنے سے پہلے انہیں آگاہ کرنا چاہیے تھا۔
گزشتہ جولائی میں ممبئی بم دھماکے کے دو روز بعد سبرامنیم سوامی نے ایک انگریزی اخبار میں لکھے گئے اپنے ایک کالم میں اس کے لیے مسلمانوں کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سبرامنیم سوامی کے اس مذکورہ مضمون کا عنوان تھا ’ہاؤ ٹو وائپ آؤٹ اسلامک ٹیرر‘ یعنی اسلامک دہشت گردی کو کیسے ختم کیا جائے۔ یہ مضمون انگریزی اخبار ڈی این اے میں شائع ہوا تھا۔
سبرامنیم سوامی نے اپنے کالم میں لکھا تھا کہ دہشتگردانہ کاررائیوں سے نمٹنے کے لیے ہندوؤں کو متحد ہوکر جواب دینا چاہیے اور اگر ضرورت پڑے تو مسلمانوں کو ووٹ دینے کے حق سے محروم کر دیا جانا چاہیے۔
اپنے مضمون میں سوامی نے لکھا تھا کہ مندروں کی جگہ بنی تمام مساجد کو منہدم کر دینا چاہیے اور اس بات کی وکالت کی تھی کہ جو لوگ اپنے آباؤ اجداد کو ہندو نہیں مانتے انہیں بھی ووٹ دینے کے حق سے محروم کردینا چاہیے۔
سبرامنیم سوامی نے اس موقف کی بھی وکالت کی تھی کہ بھارت میں اسلامی دہشتگردی قومی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔
اس سے پہلے اقلیتی کمیشن کے چیئرمین وجاہت حبیب اللہ نے بھی سوامی کے مضمون پر سخت نکتہ چینی کی تھی اور کہا تھا کہ یہ تحریر دشمنی اور مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ہے۔
دلی میں پولیس نے اس کے خلاف ایک مقدمہ بھی درج کیا تھا لیکن ابھی تک اس میں کوئی کارروائی نہیں کی گئي ہے۔
ہارورڈ یونیورسٹی میں طلباء نے بھی سبرامنیم سوامی نے کے خلاف مہم چلائی تھی اور تقریبا چار سو طلباء نے سبرامنیم سوامی کے خلاف دستخطی مہم پیش کی تھی۔







