سنگور زمین کی واپسی درست ہے:ہائی کورٹ

بھارتی ریاست مغربی بنگال کی ہائی کورٹ نے سنگور اراضی کےمتعلق ٹاٹا موٹرز کی درخواست کو نامنظور کر دیتے ہوئے کسانوں کو زمین واپس کرنے کے فیصلے کودرست قرار دیا ہے۔
عدالت کا کہنا ہے کہ ریاستی اسمبلی نے کسانوں کو ان کی زمین واپس کرنے اور ان کی بحالی کےلیےجو قرارداد منظور کی ہے وہ آئینی اور قانونی طور پر صحیح ہے۔
عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ ٹاٹا موٹرز کمپنی زمین سےمتعلق معاوضہ یا ہرجانہ طلب کر سکتی ہے جو غور و فکر کے بعدتعین کیا جا سکتا ہے لیکن زمین پر اس کا حق نہیں ہے۔
پہلے بھی اس معاملے پر کولکتہ ہائی کورٹ نے ٹاٹا کی درخواست مسترد کر دی تھی اور اس پر حکم امتناعی جاری نہیں کیا تھا۔ لیکن سپریم کورٹ نے فیصلہ نہ آنے تک اس پر عمل درآمد سے روک دیا تھا۔
ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹاٹا موٹرز کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ اس فیصلے پر غور و فکر کریں گے اور پھر سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے۔
مغربی بنگال کے سنگور علاقے میں ٹاٹا موٹرز نے اپنی کار نینو کا کارخانہ کھولنے کے لیے تقریباً ایک ہزار ایکڑ کسانوں کی زمین حاصل کی تھی اور وہاں تعمیری کام بھی شروع کیا گیا تھا۔
لیکن کسانوں کے سخت احتجاج کے بعد کمپنی نے اس کارخانے کو کولکتہ سےگجرات منتقل کر دیا تھا تاہم اِس زمین پر کچھ نہیں کیا گیا۔
گزشتہ انتخابات میں بائیں بازو کی ناکامی کے بعد بنگال میں ممتا بنرجی کی قیادت میں نئی حکومت تشکیل پائی ہے اور حال ہی میں اسبملی سے ایک قرار داد منظور کی گئي جس کے مطابق یہ زمینیں کسانوں کو واپس کر دی جائیں گي۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسمبلی کے ذریعے نئے قانون کی منظوری کے بعد سے ہی کسانوں کو زمین کی واپسی کا عمل شروع کر دیا گيا تھا۔ لیکن عدالتی حکم کے بعد یہ عمل رک گيا ہے۔
ہندوستان میں بڑے کارخانوں کی تعمیر کے لیے کسانوں کی زمین کا حصول بہت پیچیدہ اور متنازع مسئلہ رہا ہے۔ اس وقت ملک کے کئی علاقوں میں اس کے خلاف احتجاج ہو رہا ہے۔
مبصرین کا خیال ہے کہ در اصل زمین کے حصول اور اس کی واپسی کا مسئلہ بہت حساس ہے۔ اگر کسی ایک ریاست نے اس طرح اپنی مرضی کے مطابق قانون بنا لیا تو پھر دیگر ریاستی حکومتیں بھی ایسا ہی کرنے کا سوچیں گي۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے فریقین کے حقوق کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم امتناع جاری کیا ہے تاکہ حکومت اور ٹاٹا کے مفادات کا خيال رکھا جا سکا۔
ٹاٹا موٹرز کا کہنا ہے کہ انہوں نے زمین کے حصول کے بعد کافی سرمایہ کاری کی تھی اور کسانوں کی ایک بڑی تعداد آج بھی اپنی زمین واپس نہیں بلکہ وہاں کارخانے میں ملازمت چاہتے ہیں۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ درست نہیں کہ فریقین کے مفادات کا خیال کیے بغیر ہی کسانوں کو زمین واپس کر دی جائے۔







