پاکستانی وزیر خارجہ میں بھارتی دلچسپی

حنا ربانی کھر

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنپاکستانی سفیر کی کم عمر پاکستان کے لیے ’امیج ایڈوانٹیج’ ثابت ہوسکتی ہے: سابق سفیر ستیش چندرا

پاکستان کی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر اپنے بھارتی ہم منصب سے مذاکرات کے لیے دلی پہنچ گئی ہیں جہاں انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کو ماضی میں الجھے بغیر اپنے تعلقات کو آگے بڑھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔

دلی ہوائی اڈے پر نامہ نگاروں کو مختصر بیان دیتے ہوئے پاکستانی وزیر نے کہا کہ ’میں پاکستان کی حکومت اور عوام کی نیک خواہشات لے کر انڈیا آئی ہوں اور امید کرتی ہوں کہ دونوں ملک تاریخ سے سبق تو سیکھیں گے لیکن اس میں الجھیں گے نہیں۔ میں امید کرتی ہوں کہ ہم اچھے ہمسایوں کی طرح اپنے تعلقات کو آگے بڑھا سکیں گے۔‘

وہ اپنے بھارتی ہم منصب ایس ایم کرشنا سے بدھ کو دلی کے حیدرآباد ہاؤس میں ملاقات کریں گی جہاں دونوں ملکوں کے خارجہ سیکرٹریوں نے منگل کو بات چیت کے ایجنڈے کو حتمی شکل دی۔

سیکرٹریوں کی بات چیت سے قبل پاکستان کے خارجہ سیکریٹری سلمان بشیر نے کہا کہ ’دونوں ملکوں میں امن و استحکام کے لیے ہم نے مشترکہ طور پر جو کوششیں کی ہیں، ان سے ہم پوری طرح مطمئن ہیں۔‘

پاکستانی وزیر منگل کی شام کو علیحدگی پسند تنظیم حریت کانفرنس کے رہنماؤں سے ملاقات کریں گی۔

بہرحال، ان مذاکرات سے پہلے حنا ربانی کھر کو وزیر خارجہ بنائے جانے سے یہاں مذاکرات میں دلچسپی اور بھی زیادہ بڑھ گئی ہے اور میڈیا میں مسلسل اس بات کا تجزیہ ہو رہا ہے کہ کیا وہ اپنی پہلی بڑی سفارتی آزمائش میں پوری اتریں گی؟

دفاعی تجزیہ نگار معروف رضا نے ایک ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حنا ربانی کھر کی عمر صرف چونتیس برس ہے اور ’اب ہمیں ایک ایسی دلچسپ صورتحال کا سامنا ہے کہ جس میں ایک نوجوان خاتون وزیر بھارت آئی ہیں، ان کا تعلق پاکستان کے ایک بااثر سیاسی گھرانے سے ہے، لیکن کیا جب بات پاکستان اور بھارت کے پیچیدہ مسائل پر ہوگی تو وہ توقعات پر پوری اتر پائیں گی؟‘

’جہاں تک (اس عہدے کے لیے) ان کی اہلیت کا سوال ہے، شاید وہ صرف اتنی ہے کہ ان کا ایک طاقتور گھرانے سے تعلق ہے۔۔۔جہاں تک بھارت کے حوالے سے توقعات کا سوال ہے، مجھے ان سے کوئی امید نہیں ہے۔‘

لیکن پاکستان میں بھارت کے سابق سفیر ستیش چندرا نے ایک خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی سفیر کی کم عمر پاکستان کے لیے ’امیج ایڈوانٹیج’ ثابت ہوسکتی ہے۔ ’ویسے بھی پاکستان کے فوجی اسٹیبلشمنٹ کی وجہ سے اس بات سےکوئی فرق نہیں پڑتا کہ وزیر خارجہ کون ہے، بھارت پاکستان تعلقات سے متعلق تمام فیصلے فوج ہی کرتی ہے۔’

میڈیا میں اس بات کا بھی کافی ذکر ہے کہ بھارتی وزیر حنا ربانی کھر سے عمر میں پینتالیس سال بڑے ہیں۔ دونوں کی ملاقات بدھ کو ہونی ہے جس کے بعد ایک اعلامیہ جاری کیے جانےکا امکان ہے۔

بہرحال، لاہور سے دلی روانہ ہونےسے قبل پاکستانی وزیر نے کہا تھا کہ ہم بھارت کے ساتھ کشمیر سمیت تمام معاملات پر سود مند اور نتیجہ خیز مذاکرات کرنا چاہتے ہیں اور یہ کہ دونوں ملکوں نےقیام امن کا ایسا عمل شروع کیا ہے جس میں اب رخنہ نہیں ڈالا جاسکتا۔