غیرت کے نام پر قتل، ماؤں پر الزام

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنانڈیا میں ہر سال سینکڑوں افراد کو اپنے خاندان کی خواہشات کے برعکس پسند کی شادی کرنے کی بنا پر موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے

بھارت کی ریاست اترپردیش میں پولیس نے دو خواتین پر اپنی بیٹیوں کو غیر کے نام پر قتل کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا ہے۔

پولیس نے بی بی سی کو بتایا کہ دونوں خواتین مسلمان ہیں اور پڑوس میں رہتی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اپنی بیٹیوں کے گھر سے بھاگ کر ہندو لڑکوں سے شادی کرنے پر بہت ناراض تھیں۔

انیس سالہ زاہدہ اور چھبیس سالہ حسنہ کو گزشتہ ہفتے اس وقت گلا دبا کر ہلاک کر دیا تھا جب وہ خاندان والوں کو منانے کے لیے میکے آئی تھیں۔

دونوں خواتین نے ابھی تک اپنے خلاف لگائے جانے والے الزامات پر کسی نوعیت کے ردِ عمل کا اظہار نہیں کیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ابھی تک اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا دونوں خواتین نے ایک دوسرے کی مدد تو نہیں کی۔

زاہدہ اور حسنہ نےگھر سے بھاگ کر دو ہندو مزدوروں سے محبت کی شادی کر لی تھی اور گزشتہ ہفتے ہی اپنے خاندان والوں سے صلح کے لیے واپس میکے آئی تھیں۔ دونوں کی ماؤں کو جمعہ کے روز گرفتار کر لیا گیا تھا۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ انڈیا میں ہندو اور مسلمان برادریوں کے درمیان شادیاں عام نہیں ہیں اور دیہی علاقوں میں انہیں خاص طور پر ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

بھارتی سپریم کورٹ نے گزشتہ ہفتے ہی اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ غیرت کے نام پر قتل کے ملزموں کو موت کی سزا ملنی چاہیے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ وقت آ گیا ہے کہ ان وحشیانہ اور جاگیردانہ رسومات کو ختم کر دیا جائے جو ملک کے نام پر دھبہ ہیں۔

ایک حالیہ تحقیق کے مطابق انڈیا میں ہر سال سینکڑوں افراد کو اپنے خاندان کی خواہشات کے برعکس پسند کی شادی کرنے کی بنا پر موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔ ایسے مقدمات میں ملزمان کو عام طور پر عمر قید کی سزا ملتی ہے۔