بھارت, مردم شماری کے دوسرے دور کا آغاز

،تصویر کا ذریعہAP
بھارت میں ہر دس برس میں ہونے والی مردم شماری کا بدھ کے روز سے دوسرا مرحلہ شروع ہورہا ہے۔ پہلا مرحلہ دسمبر میں پورا ہوا تھا۔
مردم شماری کے پہلے مرحلے میں اہلکاروں نے گھر گھر جاکر لوگوں سے بجلی اور پانی جیسی سہولیات کے متعلق بھی معلومات اکھٹی کیں۔
لیکن دوسرے مرحلے میں عوام سے بہت سی تفصیلات، جیسے بےگھر افراد، ان کے پیشے، آمدنی، ذات قبائل، مذہب اور دیگر درجہ بندیوں کی دریافت کی جائےگی۔
اس سے پہلے کے مرحلے میں صرف مرد اور خواتین کا خانہ تھا لیکن اس بار وہ لوگ جو اس کے درمیان کے ہیں ان کے لیے ایک الگ جنس کا کالم رکھا گیا ہے جس میں وہ اپنی پسند اختیار کرسکتے ہیں۔

بھارت کے جزائر انڈمان نکوبار جیسے علاقوں میں بعض ایسی نسلیں آباد ہیں جن کا رہن سہن عام انسانوں جیسا نہیں ہے۔ ان میں اور ملک کے دیگر انسانوں میں ربط پیدا کرنا بھی غیر قانونی ہے۔ ایسے افراد کی مردم شماری کے لیے خصوصی انتظامات کیےگئے ہیں۔
اس مردم شماری کی بنیاد پر ہی مرکزی حکومت نے سبھی باشندوں کے لیے خصوصی کارڈ تیار کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ یہ کارڈ پندرہ برس کے اوپر کے ملک کے سبھی شہریوں کو دیا جائےگا۔
ہندوستان میں پہلی بار سنہ انیس سو بہتر میں مردم شماری کرائی گي تھی جس کے بعد سے ہر دس برس میں اسے از سر نو کرایا جاتا ہے۔
دو ہزار ایک کی مردم شماری کے مطابق بھارت میں ایک ارب بیس کروڑ لوگ رہتے ہیں اس وقت بھارت کی آبادی اس سے بھی زیادہ ہوچکی ہے۔ اور مردم شماری کا کام آسان نہیں ہے۔ اس کام پر حکومت کا کئی کروڑ روپے کا خرچ آتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







