کامن ویلتھ گیمز، سی بی آئی کے چھاپے

دولت مشترکہ کھیلوں میں ہونے والی بدعنوانی کے حوالے سے مرکزی تفتیشی ادارے سی بی آئی نے گیارہ مقامات پر چھاپے مارے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق دولت مشترکہ کھیلوں کی منتظمہ کمیٹی کے سیکرٹری جنرل للت بھنوت اور ڈائریکٹر جنرل وی کے ورما کے مکان پر بھی چھاپہ پڑا ہے اوروہاں تلاش جاری ہے۔
کامن ویلتھ گیمز میں بدعنوانی کے الزام میں کھیل کے میں ملوث اب تک تین افسروں کوگرفتار کیا جاچکا ہے۔
کھیل کی منتظمہ کمیٹی کے سربراہ سریش کلماڈی نے کانگریس پارٹی کے عہدے سے پہلے ہی استعفیٰ دیدیا تھا۔
مسٹر کلماڈی پر بھی کھیلوں کے انتظام میں بدعنوانی کا الزام ہے مگر وہ اس سے انکار کرتے ہیں۔ گزشتہ روز ایک بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ اس بارے میں پارلیمان میں بیان دینے والے ہیں۔
’میں نے کھیلوں میں بدعنوانی کے حوالے سے تفتیش کا خیر مقدم کیا ہے۔ میں اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ میں نے کوئی غلطی نہیں کی ہے۔ میں اس بارے میں لوک سبھا میں بیان دینا چاہتا ہوں جس کے لیے سپیکر سے وقت مانگا ہے۔‘
دولت مشترکہ کھیلوں کی تیاریوں میں تاخیر، بے ڈھنگی تعمیر اور ضرورت سے زیادہ پیسوں کے استعمال جیسے الزامات ہیں۔ گزشتہ ماہ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے اس کی تفتیش کے احکامات دیئے تھے۔
گیمز کے سینیئر اہلکار ٹی ایس درباری اور سنجے مہندرو کو کنٹریکٹ میں بے ضابطگیاں برتنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مالی امور سے متعلق ایم جے چندرن کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ ان پر کمپنیوں کو بہت زیادہ قیمت پر کنٹریکٹ دینے کا الزام ہے۔
جے چندر کے پیش رو بدعنوانی کے الزامات کے بعد اگست میں ہی مستعفیٰ ہو گئے تھے۔ دلی میں اکتوبر کے مہینے میں کرائے گئے کامن ویلتھ گمیز میں کئی طرح کے بدعنوانی کے الزامات عائد ہوئے ہیں اور یہ معاملہ پارلیمان میں بھی اٹھایا گیا ہے۔







