’چیف جسٹس کےدفتر کو معلومات دینا ہوں گی‘

کے جی بالاکرشنن
،تصویر کا کیپشنبھارت کے ججوں پر اپنے مالی اثاثے عام کرنا کا دباؤ تھا

دلی ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں کہا ہے کہ چیف جسٹس آف انڈیا کا دفتر بھی معلومات کی رسائی کا حق کے قانون کے دائرے میں آتا ہے.۔

دلی ہائی کورٹ کی تین رکنی بینچ نے فیصلہ سنایا ہے کہ بھارت کے سپریم کورٹ کے دفترکو بھی معلومات کی رسائی کا قانون یعنی آر ٹی آئی کے تحت معلومات فراہم کرنا لازم ہے۔

غور طلب ہے کہ معلومات کے حقوق کے قانون کے تحت سینٹرل انفارمیشن کمیشن نے جب یہ فیصلہ دیا تھا کہ ججوں کو بھی اپنے اثاثوں کی تفصیلات عام کرنی ہوں گی تو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے جی بالاکرشنا نے ایسا کرنے سے منع کردیا تھا۔

بالا کرشنا کا موقف تھا کہ ہندوستان کے چیف جسٹس کا دفتر اور ججوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنا اس قانون کا حصہ نہیں ہے لیکن جب اس معاملے پر ایک بحث چھڑ گئی اور میڈیا میں چیف جسٹس کے موقف پر نکتہ چینی ہوئی۔ بعد ازاں سپریم کے سبھی ججوں اور کئی ہائی کورٹس کے ججوں نے بھی اپنے اثاثوں کی تفصیلات ویب سائٹس کے ذریعے عام کردی تھی۔

چیف جسٹس کے دفتر اور دیگر ججوں کے معلومات حاصل کرنے کے لیے مفاد عامہ کی عرضی دلی کے سبھاش اگروال نے دائر کی تھی۔

نئے فیصلے پر ان کا کہنا تھا ’انصاف کے سارفین کے لیے یہ ایک نئی جیت ہے۔ میں خود کو عدلیہ کے بعض فیصلوں کا شکار مانتا ہوں۔ میں اس فیصلے سے بہت خوش ہوں‘۔

جسٹس کے جی بالا کرشنن کے علاوہ سپریم کورٹ کے بیس ججوں نے اپنی مالی اثاثوں عام کیا تھا۔ ججوں نے اپنی مالی اثاثوں کو سپریم کورٹ کی سرکاری ویب سائٹ پر شائع کیا تھا۔چیف جسٹس کے جی بالا کرشنن نے اپنے اور اپنی اہلیہ کے نام پر جو زمین اور گھر ہیں اس کی تفصیلات دی تھیں جبکہ انہوں نے کہا تھا کہ انکے پاس کوئی فکس ڈپوزٹ نہیں ہے۔