’او آئی سی کشمیر میں مداخلت نہ کرے‘

- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سرینگر
بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے جمعرات کو دو روزہ دورۂ کشمیر کے اختتام پر کہا ہے کہ بھارت کشمیر کے معاملے میں مسلم ممالک کی تنظیم او آئی سی کی مداخلت قبول نہیں کرے گا۔
جنوبی کشمیر کے اونتی پورہ قصبہ میں فوج کے خصوصی ہوائی اڈہ پر نئی دلّی روانہ ہونے سے قبل نامہ نگاروں سے خطاب کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ ’ہم نے پہلے ہی او آئی سی کی طرف سے کشمیر پر خصوصی نمائندہ مقرر کرنے کو ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا ہے۔ ہم نے ان کے خلاف احتجاج بھی کیا ہے۔ ایسی مداخلت بھارت کے لیے ناقابل قبول ہے‘۔
انہوں نے اس موقف کا اعادہ کیا کہ پاکستان کے ساتھ مذاکراتی عمل بحال کرنے کے لیے دہشت گردی کے خلاف پاکستانی ایکشن کو شرط نہیں بنایا جائے گا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی سرزمین پر دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کرنا ناگزیر ہے۔
انہوں نے اعتدال پسند رہنما میرواعظ عمرفاروق کی طرف سے او آئی سی کی سالانہ کانفرنس میں دیے گئے بیان کو ’غصہ کا نتیجہ‘ قرار دیا اور کہا ایسے بیانات کوحکومت ہند خاطر میں نہیں لاتی۔ واضح رہے اس کانفرنس میں میرواعظ نے مسلح جدوجہد کو کشمیریوں کی تحریک کا حصہ قرار دیا تھا۔
وزیراعظم نے ایک بار پھر جموں کشمیر میں ہر طرح کے سیاسی نظریات رکھنے والوں کے ساتھ بات چیت کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ہندمخالف عناصر سے بھی بات کرنے پر آمادہ ہیں اگر وہ تشدد کا راستہ ترک کردیں۔
یاد رہے بدھ کی صبح وادی پہنچے پر منموہن سنگھ نے جنوبی کشمیر میں قاضی گنڈ اور اننت ناگ کے درمیان اٹھارہ کلومیٹر کی اندرونی ریل سروس کا افتتاح کیا تھا جبکہ بدھ کی شام وزیراعظم نے حکمران نیشنل کانفرنس، اپوزیشن پی ڈی پی، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) ، بی جے پی اور دیگر ہندنواز گروپوں کے ساتھ الگ الگ ملاقاتیں کیں اور ان ملاقاتوں میں نیشنل کانفرنس نے آئینی خودمختاری کی وکالت کی جبکہ پی ڈی پی نے ’سیلف رول‘ کا مطالبہ دوہرایا۔



